بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کا حمل ضائع ہونے کے بعد عدت کا حکم/ میت کی قضا نمازوں کا فدیہ دینے کا حکم


سوال

1- ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے ،اس کی اہلیہ حمل سے ہے ،اب وضع حمل سے عدت ختم ہوگی یا چار ماہ دس دن پورے کرنے ہوں گے؟  

2-اگر حمل ضائع ہو جائے تو عدت کیسے گزارے گی؟

3-جوائنٹ فیملی میں عدت کیسے گزارے گی؟

4-فوت شدہ شخص کی وہ نمازیں جو بیماری کے زمانے میں قضاء ہوگئی ہیں، ان کا فدیہ کتنا دینا ہوگا؟

5- اسی طرح اگر بلوغت کے بعد سے قضا کی نمازوں کا فدیہ دینا چاہیں جو کہ معلوم نہ ہوں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

1، 2-صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی عدّت وضعِ حمل ہوگی، نہ کہ چار ماہ دس دن،اور اگر اس دوران حمل ضائع ہو جائے تو اگر اس کی مدت چار ماہ یا اس سے زیادہ ہو چکی ہو، تو عدّت پوری مانی جائے گی، لیکن اگر وہ چار ماہ سے کم عرصے میں ضائع ہوا ہو، تو پھر عدّت چار ماہ دس دن پوری کرنا ہوگی۔

3-صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ کے لیے  حکم یہ ہے کہ وہ عدت شوہر ہی گھر  میں گزارے، اور دیور وغیرہ سے شوہر  کی زندگی میں بھی اور دورانِ عدت بھی پردہ کا حکم ہے ان سے پردہ کا اہتمام کرے۔

4- اگر مرحوم بیماری کے ایام میں بےہوش رہا ہو اور بالکل ہوش و حواس نہ رہا، تو اس مدت کی نمازوں کا فدیہ واجب نہیں ہوگا۔ چنانچہ ورثاء کو ان ایامِ بے ہوشی میں فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا لازم نہیں ہے۔ البتہ بیماری کے باقی ایام میں اگر مرحوم کا ہوش و حواس بحال رہا اور وہ اشارے یا دیگر معاملات سے نماز پڑھنے کے قابل تھی، تو ایسی صورت میں واجب تھا کہ وہ خود نمازیں ادا کرے یا بعد میں ان کے فدیہ  کی وصیت  کرے، اگر اس نے کوئی وصیت نہ کی ہو، تو ورثاء کے لیے واجب نہیں کہ وہ ان فوت نمازوں کا فدیہ دیں۔ البتہ اگر ورثاء میں سے کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنی مرضی سے یا  تمام ورثاء عاقل بالغ ہو،اور سب رضامندی سے ترکہ سے فدیہ ادا کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور وہ وتر سمیت دن کی چھ نمازوں کے حساب سے تمام نمازوں  کا فدیہ دے سکتے ہیں۔

5-اسی طرح اگر مرحوم نے بلوغ کے بعد قضاء شدہ نمازوں کا فدیہ دینے کی وصیت کی ہو لیکن ان نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو، تو غالبِ گمان و اندازے کی بنیاد پر ایک تعداد مقرر کر کے وہ فدیہ ادا کرے۔

فدیے کی مقدار عموماً ایک صدقہ فطر کے برابر  ہے، اور چونکہ روزانہ وتر سمیت چھ فرض نمازیں ہیں، اس لیے ایک دن کی نمازوں کا فدیہ چھ صدقاتِ فطرہ کے برابر ہوگا۔ صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے برابر شمار کی جاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) انقضاء (العدة من الأخير وفاقًا) لتعلقه بالفراغ (و سقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، و لايستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يومًا (ولد) حكمًا (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه و تنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء."

(مطلب في أحوال السقط، ج:1، ص:302، ط: سعيد)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"وإن كان المنزل لزوجها وقد مات عنها فلها أن تسكن في نصيبها إن كان نصيبها من ذلك ما تكتفي به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها، وإن كان نصيبها لايكفيها أو خافت على متاعها منهم فلا بأس أن تنتقل، وإنما كان كذلك؛ لأن السكنى وجبت بطريق العبادة حقا لله تعالى عليها، والعبادات تسقط بالأعذار، وقد روي أنه لما قتل عمر - رضي الله عنه - نقل علي - رضي الله عنه - أم كلثوم - رضي الله عنها - لأنها كانت في دار الإجارة، وقد روي أن عائشة - رضي الله عنها - نقلت أختها أم كلثوم بنت أبي بكر - رضي الله عنه - لما قتل طلحة - رضي الله عنه - فدل ذلك على جواز الانتقال للعذر، وإذا كانت تقدر على أجرة البيت في عدة الوفاة فلا عذر، فلا تسقط عنها العبادة كالمتيمم إذا قدر على شراء الماء بأن وجد ثمنه وجب عليه الشراء وإن لم يقدر لايجب لعذر العدم. كذا ههنا، وإذا انتقلت لعذر يكون سكناها في البيت الذي انتقلت إليه بمنزلة كونها في المنزل الذي انتقلت منه في حرمة الخروج عنه؛ لأن الانتقال من الأول إليه كان لعذر فصار المنزل الذي انتقلت إليه كأنه منزلها من الأصل فلزمها المقام فيه حتى تنقضي العدة"

 

(كتاب الطلاق، فصل في أحكام العدة، ج: 3، ص:305، ط:دار الكتب العلمية ) 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)

(قوله وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لا يلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة.

وفیہ ایضاً:

(قوله وكذا حكم الوتر) لأنه فرض عملي عنده خلافا لهما ط. ولا رواية في سجدة التلاوة أنه يجب أو لا يجب كما في الحجة. والصحيح أنه لا يجب كما في الصيرفية إسماعيل."

(کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:72، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100740

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں