بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کاعدت میں عید کے موقع پر رشتہ داروں سے ملنے کے لئےگھر سے نکلنا


سوال

 متوفی عنھا زوجھا عورت عدت میں ہو اور شوہر کے دو گھر ہوں، ایک جس میں اس کی رہائش ہو، دوسرا اس کی والدہ کا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے شوہر کی والدہ یہ چاہتی ہے کی عید پر سب بہن بھائی جمع ہو ں گے تو معتدہ شوہر کی والدہ کے گھر آ جائے ،صبح جاکر مغرب سے پہلے واپس آ جائے، تو اب اس کے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ آ یا وہ عورت جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس عورت پر شوہر کے اس گھر میں عدت مکمل گزارنالازم ہے جس گھر میں شوہر کے انتقال کے وقت عورت رہ رہی ہو،عدت کے دوران شدید ضرورت کے بغیرگھر سے نکلنا جائز نہیں ہے،نہ دن کے اوقات میں اور نہ رات کے اوقات میں ،لہذاصورت مسئولہ میں  عید کے موقع پر رشتہ داروں کا مرحوم شوہر کی والدہ کے گھر پر جمع ہونے کی وجہ سے ان سے ملاقات کے لئے بیوہ کا شوہر کے گھر سے نکل کر اس کی والدہ کے گھر جانا  شرعا جائز  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (‌في ‌بيت ‌وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.

(قوله: في بيت وجبت فيه) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج كما مر آنفا، وشمل بيوت الأخبية كما في الشرنبلالية."

 (‌‌‌‌کتاب الطلاق،باب العدة،فصل في الحداد،3/ 536،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي.

 لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان.

إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل."

 (کتاب الطلاق،الباب الرابع عشر في الحداد،1/ 535،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101837

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں