بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں، جن میں سے ایک بیٹے کی وفات اس شخص کی زندگی میں ہوگئی تھی اور دو بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، ان سب کے درمیان وراثت شرعی طور پر کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کا انتقال ہوگیا ہے تو اس مرحوم کے  ترکہ کی تقسیم  کا طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلےمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات  نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا کوئی قرض ہو تو  اسے کل ترکہ سے  ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومنے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ  ترکہ کے  ایک تہائی  میں نافذ کرنے کے بعد،   باقی کل  منقولہ وغیر منقولہ ترکہ  کو 80حصوں میں تقسیم کر  کے 10حصے  مرحوم کے بیوہ کو،14 حصے   کرکے  مرحوم  کے ہر ایک زندہ بیٹے  کو اور   7 کرکے    اس کی   ہر ایک بیٹی کو  کوملیں گے۔ 

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8/ 80

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
101414141477

یعنی  100 میں فیصد کے اعتبار سے12.50فیصد  مرحوم کی بیوہ کو، 17.50 فیصد  مرحوم کے ہر ایک بیٹے  کو ،  8.75 فیصد اس کی  ہر ایک بیٹی کو   کوملے گا۔

نیز جس بیٹے کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا ، اس کا والد کے ترکہ میں حق وحصہ نہیں ہوگا۔فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100830

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں