
ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں، جن میں سے ایک بیٹے کی وفات اس شخص کی زندگی میں ہوگئی تھی اور دو بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، ان سب کے درمیان وراثت شرعی طور پر کیسے تقسیم ہوگی؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کا انتقال ہوگیا ہے تو اس مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلےمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومنے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد، باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو 80حصوں میں تقسیم کر کے 10حصے مرحوم کے بیوہ کو،14 حصے کرکے مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹے کو اور 7 کرکے اس کی ہر ایک بیٹی کو کوملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:8/ 80
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 10 | 14 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 |
یعنی 100 میں فیصد کے اعتبار سے12.50فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 17.50 فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ، 8.75 فیصد اس کی ہر ایک بیٹی کو کوملے گا۔
نیز جس بیٹے کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا ، اس کا والد کے ترکہ میں حق وحصہ نہیں ہوگا۔فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن