بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹوں سے گزشتہ عرصے کا کرایہ اور بل وصول کرنے ، نیز جائیداد تقسیم کرکے نافرمان کو محروم کرنے کا حکم


سوال

1۔میرا ایک مکان ہے جس کے پہلے فلور میں میرا ایک بیٹا اور دوسرے فلور میں دوسرا بیٹا رہتاہے ، جو بیٹا پہلے فلور میں رہتاہے ، اس کا اور اس کی بیوی کارویہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں ہے   ،ہمارے ساتھ بداخلاقی کی حد کردی ، یہاں  تک کہ  ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بھی بنوائے ، اب میں چاہتاہوں کہ وہ میرے پہلے فلور کو خالی کرے ،اور میں اس فلور کو کرایہ پر دے دوں ،کیامیرے لیے یہ جائز ہے ؟

2۔میرے دونوں بیٹوں نے اب تک کوئی کرایہ ،بجلی کا بل ،گیس کابل ادا نہیں کیا ،میں خود ہی اداکرتاتھا دس سال سے ،اب کیا میں ان سے گزشتہ دس سالوں کاکرایہ ،بجلی اور گیس کے بل کامطالبہ کرسکتاہوں ؟یعنی میں دس سال تک دوسرے اور تیسرے فلور جس میں یہ دو بیٹے رہتے ہیں ، ان کا گیس اور بجلی کا بل جمع کرتارہاہوں ۔

3۔کیامیں اپنامکان اپنی زندگی میں تقسیم کرکے سب اولاد کو حصہ دے کر ایک بیٹا جو نافرمان ہے اس کو محروم کرسکتاہوں ؟

وضاحت:جوبیٹاپہلے فلور پر رہتاہے اس نے مطالبہ کیا کہ مکان ہمارے  (بیٹے )نام کردیں،کاغذات چوری کرکے لےکرگئے تھے اپنے نام کرنے کی کوشش کی مگر نہیں ہوا،بڑی مشکل سے کاغذات واپس ہوئے ،پھر بیٹے نےجھوٹا میڈیکل بنوایا کہ میں نے اس کی بیوی کو مارا  ہے ، اس طرح پریشر میں لاکر مجھ سے مکان اپنے نام کروانا چاہتا ہے۔

میری عمر ستر سال ہے ، میں اس عمر میں بھی محنت مزدوری کررہا ہوں ، میں چاہتا ہوں یہ گھر خالی کردیں ، میں کرایہ پر دے دوں۔

میری کل دوبیٹیاں اور چاربیٹے ہیں ۔

جواب

1۔صورت مسئولہ میں مذکورہ مکان سائل کی ملکیت ہے ،اس میں سائل کو کلی تصرف کا اختیار حاصل ہے ۔

مذکورہ بیٹے پر لازم ہے کہ وہ والد کے ساتھ بدتمیزی سے اجتناب کرے، والد کا اپنی اولاد پر بڑا حق ہے ، والد کا ادب و احترام لازم ہے ، اور والد سے بدتمیزی سے پیش آنا سخت گناہ ہے۔ لہذا مذکورہ بیٹے کا زبردستی والد کے مکان کو اپنے نام منتقل کرنا یا والد کو مجبور کرنا جائز نہیں ہے ۔ 

 جب بیٹے کمانے کے قابل ہیں اور وہ اپنے لیے متبادل بندوبست کرسکتے ہیں تو ان کا جبری طور پر والد کے مکان میں رہنا جائز نہیں، لہذا سائل اپنی ضرورت کے تحت اس مکان کو بیٹوں سے خالی کرواکر کرایہ پر دینا چاہے ، یا بیٹوں سے کرایہ وصول کرے تو یہ جائز ہوگا۔

2۔سائل نے بیٹوں کو مذکورہ فلور پر رہائش دیتے وقت جب کرایہ اور بلوں کی ادائیگی سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا تو گزشتہ عرصے کے کرایہ اور بلوں کی رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتے، تاہم آئندہ کے لیے اگر میٹر الگ کردیے جائیں یا کرایہ اور بلوں سے متعلق کوئی معاہدہ کرلیں تو یہ جائز ہوگا۔

3۔سائل اگر اپنی جائیداد زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کاشرعی طریقہ یہ ہے:تمام اولاد کو برابر سرابر دے ، یعنی جتنا ایک بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو بھی دے ، کسی شرعی بنیاد کے بغیر کسی کو کم یازیادہ یا کسی ایک کوبالکل  محروم کرکے باقی کو دینا شرعا جائز نہیں۔ البتہ   اگر اولاد میں سے کوئی نافرمان ہو اور وہ کسی طرح اپنے طرز عمل سے باز نہ آئے تو اسے  محروم کرنےکی گنجائش ہوگی ۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"(المادة 1069) - يتصرف صاحب الملك المستقل في ملكه كيفما شاء...الخ"

 (الکتاب العاشر،الباب الاول،الفصل الثانی،ج:3،ص:22،ط:دارالجیل)

العقود الدرية میں ہے: 

"فجملة هذه المسائل أربعة أقسام الأول ما يرجع به المأمور مطلقا الثاني ما يرجع إن كان صيرفيا أو خليطا له أو في عياله الثالث ما يرجع إن قال عني الرابع ما لا رجوع فيه إلا بشرط الرجوع وقد لخصت هذا الحاصل من كلام الخانية ومما مر عن الخلاصة...وكذا لو كان المأمور في عيال الآمر أو بالعكس يرجع إجماعا وإن لم يقل على أني ضامن ولم يشترط الرجوع اهـ وأفاد التعليل بالضمان عرفا أن ما جرى به العرف في الرجوع على الآمر يرجع وإن لم يكن خليطا ولا في عياله ولذا أثبتوا الرجوع للصيرفي فليحفظ."

(کتاب الکفالة،ج:1،ص: 287،ط:دار المعرفة)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"(الباب السادس في الهبة للصغير) . ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية."

(کتاب الھبة،الباب السادس ،ج:4،ص: 391،ط:ألمكتبة الحبيبة كوئته)

امداد الاحکام میں ہے:

کسی ایک بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا یا حصہ کم دینا :

سوال: ایک باپ کے تین لڑکے ہیں ، بڑا لڑکا اپنے باپ کو ناراض رکھنا ہے ، باپ تا هنوز بوڑھا نہیں ہوا ہے ، گھر اور با ہر روز روز جھگڑے ہوتے ہیں آخر کا ریہی فیصلہ ہوا کہ بڑا لڑکا الگ ہوگیا ، یعنی گھر میں جو چیزیں موجود ہیں ان کے چار حصے کئے گئے، یعنی تین لڑکوں کے، اور ایک خود باپ نے اپنا حصہ لیا ، بڑا لڑکا شادی شدہ ہے ، مگر دو چھوٹے لڑ کے بغیر شادی شدہ ہیں، اس لئے باپ نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں لڑکوں کی شادی کے نام سے آٹھ سو روپیہ ٹھہرا کر بڑے لڑکے سے چوتھا حصہ یعنی دو سو روپیہ لے لئے، اور زمین میں سے بڑے لڑکے کو حصہ نہیں دیا،  باپ نے یہ فیصلہ درست کیا یا غلط ؟

الجواب:باپ کو اپنی زندگی میں اختیار ہے کہ اپنی جائید اد جس بیٹے کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے، البتہ بلا وجہ کس کو محروم کرنا یا کم دینا برا ہے ۔ اور اگر وجہ معقول سے ایسا کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔

(کتاب الهبة،ج:4،ص:55،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704100798

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں