
ہماری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ہمارے والد اور ان کے والدین کا ان سے پہلے انتقال ہوچکا تھا، انتقال کے وقت ورثاء میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔ والدہ نے ترکہ میں دو مکان چھوڑے ہیں:پہلا مکان انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی تمام اولاد کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کر دیا تھا۔ کاغذی کارروائی مکمل ہو چکی تھی، لیکن تاحیات وہ خود اس میں رہائش پذیر رہیں، اور ہر بیٹے اور بیٹی کو ان کا حصہ الگ کر کے حوالہ نہیں کیا تھا۔دوسرے مکان کے متعلق انہوں نے محمد عاشقین نامی شخص کو زبانی وصیت کی کہ: ”میرے انتقال کے بعد اس مکان کو میری اولاد کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کر دینا۔“
اس کے علاوہ، والدہ کا ایک لے پالک بیٹا تھا، جو ان کی خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا رکشہ چلاتا تھا۔ والدہ نے زبانی وصیت کی تھی کہ: ”میرے مرنے کے بعد یہ رکشہ اسی کو دے دینا۔“نیز، والدہ نے اپنی زندگی ہی میں رکشے کے کاغذات اس لے پالک بیٹے کے نام کر دیے تھے۔ تاہم زندگی میں کاغذات دینے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ:” میرے مرنے کے بعد رکشہ اسی کو دے دینا۔“
اب درج ذیل امور سے متعلق شرعی راہ نمائی مطلوب ہے:
کیا والدہ نے اپنی زندگی میں جو پہلا مکان تقسیم کیا تھا، وہ تقسیم شرعاً معتبر ہے یا اس کی ازسرنو تقسیم کی جائے گی؟
دوسرے مکان کے متعلق والدہ نے جو وصیت کی ہے، وہ شرعاً کس طرح نافذ ہوگی اور اس مکان کی تقسیم کا صحیح طریقہ کیا ہوگا؟
رکشے کی ملکیت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ لے پالک بیٹے کو دیا جائے گا یا ترکہ میں شمار ہوگا؟
والدہ کا اپنے ایک پوتے کو ایک سال مہلت پر ایک لاکھ روپے قرض دیا تھا۔ اب وہ پوتا کہتا ہے کہ: ”میں یہ رقم ورثاء کو واپس نہیں دوں گا بلکہ اس کو وقف کر دوں گا۔“جب کہ والدہ پر خود بھی ایک لاکھ روپے قرض باقی ہے، جس کی ادائیگی لازم ہے۔ اس کا شرعی حل کیا ہوگا؟
1۔۔۔واضح رہے کہ زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا شرعاً ہبہ(گفٹ) کہلاتا ہے،اگر اپنا رہائشی مکان(جو قابلِ تقسیم بھی ہو)، ایک سے زیادہ افراد کو گفٹ کرنا مقصود ہو، تو اس گفٹ کے مکمل ہونے کے لئے شرعاً جس طرح یہ ضروری ہوتا ہے کہ گفٹ کرنے والا مذکورہ مکان سے اپنی رہائش مع ساز و سامان ختم کر کے، جس کو گفٹ کرنا مقصود ہو، اس کے قبضہ و تصرف میں دے دے، اسی طرح ایک سے زیادہ افراد میں سے ہر ایک کا حصہ متعین کر کے الگ کرنا، اور ہرایک کو اس کے حصہ پر مالکانہ قبضہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے،پس اگر گفٹ کرنے والے نے خود قابلِِ تقسیم رہائشی مکان میں رہتے ہوئے کسی کو وہ مکان گفٹ کیا، یا ایک سے زیادہ افراد کو گفٹ کرنے کی صورت میں ہر ایک کا حصہ متعین کرکے الگ کئے بغیر گفٹ کر دیا، تو ایسا گفٹ کرنا شرعاً معتبر نہیں ہوتا، وہ مکان بدستور واہب(گفٹ کرنے والے) ہی کی ملکیت شمار ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں، سائلہ کی والدہ نے جو پہلا مکان اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کیا تھا، لیکن خود تاحیات اس میں مقیم رہیں اور اولاد کے حصے متعین کر کے الگ بھی نہ کئے، تو شرعاً وہ گفٹ مکمل نہیں ہوا تھا۔ وہ مکان اولاد کے نام ہونے کے باوجود شرعاً اولاد کی ملکیت میں نہیں آیا تھا، بلکہ والدہ صاحبہ کی ہی ملکیت اس مکان پر قائم رہی، اور والدہ کی وفات کے بعد وہ مکان مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہو کر حصصِ شرعیہ کے مطابق اسے مرحومہ کے تمام ورثاء میں تقسیم کرنا شرعاً ضروری ہوگا۔
2۔۔۔ اولاد کے حق میں شرعاً وصیت معتبر نہیں، اور نہ ہی ورثاء پر اس کی تعمیل لازم ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی وارث کے لئے وصیت کرے بھی، تو اس کی وفات کے بعد ایسی وصیت کا نفاذ دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی والدہ کا یہ کہنا کہ:”میرے انتقال کے بعد اس مکان کو میری اولاد کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کر دینا۔“ درحقیقت یہ اپنی بیٹیوں کو بیٹے کے برابر حصہ دینے کی وصیت ہے، لہذا والدہ کے انتقال کے بعد اس وصیت کا نفاذ مرحومہ کے اکلوتے بیٹے کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ اگر وہ اجازت دے دیتا ہے، تو یہ وصیت نافذ ہوگی اور مذکورہ مکان مرحومہ کی اولاد(ایک بیٹا اور دو بیٹیوں) کے درمیان برابر برابر تقسیم کیا جائے گا، اگر بیٹا اجازت نہیں دیتا، تو پھر یہ مکان مرحومہ کی اولاد کے درمیان میراث کے شرعی ضابطےکے مطابق تقسیم ہوگا۔
3۔۔۔ سائلہ کی والدہ نے اپنے لے پالک بیٹے کے حق میں رکشہ دینے کی جو وصیت کی ہے، وہ مرحومہ کے کل ترکہ(ایک لاکھ نقد جو پوتے پر قرض ہے، دو مکان اور ایک رکشہ) میں سے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ ادا کرنے کے بعد،باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں نافذ کی جائے گی، یعنی کل ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کا خرچہ نکال لیا جائے،پھر مرحومہ کے ذمہ موجود قرض (یعنی ایک لاکھ روپے) ادا کیا جائے۔ان دونوں کے بعد جو ترکہ بچے، اس کے ایک تہائی حصہ میں مذکورہ وصیت پوری کرنا لازم ہے۔ اگر رکشہ کی قیمت ترکہ کے اس ایک تہائی حصے کے برابر یا کم ہو، تو پورا رکشہ دینا لازم ہوگا۔ لیکن اگر رکشہ کی قیمت ایک تہائی سے زیادہ ہو، تو زائد حصہ میں وصیت مرحومہ کے تمام ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی،اگر تمام ورثاء اجازت دیں تو بہتر، ورنہ صرف ایک تہائی تک ہی وصیت نافذ ہوگی۔
4۔۔۔ مرحومہ نے اپنے ایک پوتے کو جو ایک لاکھ روپے قرض دیا تھا، ان کے انتقال کے بعد وہ رقم مرحومہ کا ترکہ بن کر ورثاء کا حق اس سے متعلق ہو چکا ہے۔ لہٰذا یہ رقم مرحومہ کی اولاد کو لوٹانا ضروری ہے۔پوتے کا یہ کہنا کہ: ”میں یہ رقم ورثاء کو واپس نہیں دوں گا بلکہ اسے وقف کر دوں گا“، شرعاً درست نہیں ہے۔ یہ رقم مرحومہ کے ورثاء کی ملکیت ہے، اس میں پوتے کاکوئی حق نہیں ہے۔ اگر وہ یہ رقم دنیا میں واپس نہیں کرے گا، تو آخرت میں اس کا مؤاخذہ ہوگا۔
باقی، سائلہ کی والدہ مرحومہ کے مذکورہ کل ترکہ(یعنی ایک لاکھ قرض، دو مکان اور ایک رکشہ)کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، مرحومہ کے ذمہ موجود ایک لاکھ روپے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، مرحومہ نے اپنے لے پالک بیٹے کے لئے جو وصیت کی ہے، اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو چار حصوں میں تقسیم کر کے دو حصے مرحومہ کے بیٹے کو اور ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت: والدہ مرحومہ: 4
| بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے بیٹے کو 50 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 25، 25 فیصد ملیں گے۔
تاہم یہ شرعی تقسیم ہے، اگر ورثاء باہمی رضامندی سے برابر برابر تقسیم کرنا چاہیں، تو یہ بھی جائز ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:سعيد)
المحیط البرہانی میں ہے:
"وعن أبي يوسف لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته، أو أن تهب لزوجها ولأجنبي داراً وهما فيها ساكنان، كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن الواهب إذا كان في الدار فيده بائن على الدار، وذلك يمنع تمام يد الموهوب له."
(کتاب الهبة والصدقة، الفصل السادس في الهبة من الصغير،ج:6، ص:251، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وهب اثنان دارا لواحد صح) لعدم الشيوع (وبقلبه) .....(لا) عنده للشيوع فيما يحتمل القسمة أما ما لا يحتمله كالبيت فيصح اتفاقا.(قوله: دارا) المراد بها ما يقسم (قوله: وبقلبه) وهو هبة واحد من اثنين."
(كتاب الهبة، ج:5، ص: 697، ط:سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: ولو سلمه شائعا إلخ) قال في الفتاوى الخيرية: ولا تفيد الملك في ظاهر الرواية قال الزيلعي: ولو سلمه شائعا لا يملكه حتى لا ينفد تصرفه فيه فيكون مضمونا عليه، وينفذ فيه تصرف الواهب ذكره الطحاوي وقاضي خان وروي عن ابن رستم مثله، وذكر عصام أنها تفيد الملك وبه أخذ بعض المشايخ اهـ. ومع إفادتها للملك عند هذا البعض أجمع الكل على أن للواهب استردادها من الموهوب له، ولو كان ذا رحم محرم من الواهب."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:692، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.......ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101981
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن