
یہ تو میرے علم میں ہے کہ صاحب نصاب شخص اپنی اولاد( بیٹایا بیٹی) کو زکاۃ نہیں دے سکتا ،لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگرچہ بیٹی اپنے شوہر کی کفالت میں ہو اور شوہر کے مالی حالات ٹھیک نہ ہوں اور وہ صاحب نصاب بھی نہ ہو تو کیا اس کی صورت میں بیٹی کو زکاۃ دینا جائز ہے؟
یاد رہے کہ بیٹی کو زکاۃ دینے کی وجہ یہ ہے کہ بیٹی کا شوہر مالی اعتبار سے اس وقت قابل بھروسہ نہیں، اس وجہ سے بیٹی کو زکاۃ دینے کے حوالے سے پوچھا جا رہا ہے، اس معاملے میں کوئی حیلہ کیا جا سکتا ہے جیسے کہ باپ اپنی دوسری کسی اولاد کو اپنا وکیل بنا کر زکاۃ اس تک پہنچا سکے ۔
آدمی کا اپنی اولاد کوزکاۃ دینا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر آدمی کا داماد غریب اور مستحقِ زکاۃ ہے،تو سسر اپنے داماد کو زکاۃ دے سکتاہے، جب داماد زکاۃ کا مالک بن جائے تو پھر وہ اپنی اہلیہ پر بھی خرچ کر سکتا ہے،والد اپنی اولاد(بیٹا،بیٹی) کو اصالۃ ً(براہ راست) بھی زکاۃ نہیں دے سکتا اور کسی وکیل کے ذریعہ بھی اپنی زکاۃ بیٹی کو نہیں دے سکتا ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم".
(کتاب الزکاۃ،فصل حولان الحول ھل ھو من شرائط اداء الزکاۃ،ج:2،ص: 50،ط:دارالفکربیروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101739
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن