بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کو وراثت کا حصہ زندگی میں دینا/ حفاظت کی غرض سے وِگ کا استعمال کا حکم


سوال

الف: میرا تعلق ایبٹ آباد کے نواحی علاقے سے ہے۔ ہمارے ہاں اکثر لوگوں کے پاس   زمین وغیرہ کم ہوتی ہے۔ جب وہ بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اُسے جہیز اور سونا دے کر رخصت کرتے ہیں، جو کہ آج کل کم از کم دس لاکھ روپے تک کا بن جاتا ہے۔

میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں نیت کروں کہ میں اپنی بیٹی کو جہیز اور زیورات کی صورت میں تقریباً چھ سے آٹھ لاکھ یا دس لاکھ روپے تک کا سامان دے رہا ہوں، اور یہ سامان اس زمین کے بدلے دے رہا ہوں جو اُس کی وراثت میں آتی ہے، تو کیا یہ جائز ہوگا؟

یعنی اگر میری بیٹی کی شرعی وراثت کی مالیت تقریباً پانچ سے چھ لاکھ روپے بنتی ہے، اور میں اُسے اس سے زیادہ مالیت کا جہیز یا زیورات دے کر رخصت کرتا ہوں، تو کیا یہ شرعاً جائز ہوگا؟

میں نہیں چاہتا کہ میں اللہ کے نزدیک گناہ گار بنوں، کیونکہ اسلام میں بیٹی کو وراثت دینا لازم ہے۔ میرے پاس زمین موجود نہیں، لیکن میں زمین کی مالیت کے برابر یا اُس سے زائد زیورات و سامان شادی کے وقت دے سکتا ہوں، اس نیت سے کہ یہ اُس کے وراثتی حق کی ادائیگی ہو۔

تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ اکثر لوگ شہروں میں اپنی زمین بیچ کر بچیوں کو اُن کے وراثتی حق کی رقم شادی کے وقت دے دیتے ہیں، لیکن دیہات میں اس طرح کا عمل کم ہوتا ہے یا اس کا رواج نہیں۔

 

جنابِ عالی! میری راہنمائی فرمائیں، کیا یہ عمل (یعنی زمین کی قیمت کے برابر یا زیادہ سونا اور جہیز دے دینا) وراثت کے حق کی ادائیگی شمار ہوگا؟ میں نیت کر رہا ہوں کہ میں اپنی بیٹی کا شرعی حق شادی کے وقت ادا کر دوں۔

ب: میرے سر کا تقریباً 8 ماہ پہلے دماغ کا دو جگہ سے آپریشن ہوا۔ سر کے پچھلی طرف تو بال ہیں، لیکن سامنے (فرنٹ) پر بال نہیں ہیں۔ سر کے پچھلی طرف جو کٹ لگایا گیا تھا، وہ بالوں کی وجہ سے محفوظ ہے، لیکن جو کٹ فرنٹ پر لگایا گیا تھا، وہ محفوظ نہیں ہے۔آپریشن کے بعد اس کٹ کی گہرائی بڑھ گئی ہے۔ پچھلی سائیڈ پر بھی ایک اور کٹ ہے، اس کی گہرائی بھی زیادہ ہو گئی ہے، یعنی وہ جگہ دھنس گئی ہے۔ فرنٹ پر بھی ایک گڑھا سا پڑ گیا ہے، اور اس پر بال نہیں ہیں۔ چونکہ دماغ کی حفاظت ضروری ہے تاکہ کوئی چیز لگنے سے نقصان نہ ہو جائے،اس نقصان سے بچنے کے لیے اگر میں بالوں کی وِگ لگا لوں تو کم از کم اگر کوئی چیز لگے بھی تو سیدھا دماغ پر اثر نہیں کرے گی، اور نقصان سے بچا جا سکے گا۔اسی نیت سے، کیا میں سر کے فرنٹ پر وِگ لگا سکتا ہوں؟ تاکہ میرے سر کی وہ ننگی جگہ محفوظ رہ سکے۔

جواب

الف: صورتِ مسئولہ میں، اگر بیٹی کو رقم، سونا یا جہیز صرف اس نیت سے دیا جائے کہ یہ اُس کا وراثتی حق ہے، تو صرف نیت سے وراثتی حق ادا نہیں ہوگا۔

البتہ اگر بیٹی کو رقم، سونا یا جہیز دیتے وقت یہ بات واضح طور پر کہہ دی جائے کہ یہ اُسے اُس کی وراثت میں باپ سے ملنے والی زمین کے بدلے میں دیا جا رہا ہے، اور والد کے انتقال کے بعد اس زمین میں اُس کا کوئی حق باقی نہیں رہے گا، اور بیٹی باپ کی بات کو خوشدلی اور رضامندی کے ساتھ اس شرط کو قبول کر لے، تو ایسی صورت میں والد کے انتقال کے بعد بیٹی کا اس وراثتی زمین میں کوئی حق باقی نہیں رہے گا، تاہم یہ مناسب نہیں ہے، کیوں کہ والد لڑکوں کے لیے بھی شادی پر خرچ کرتے ہیں، تو سب کی شادی کے وقت اس طرح معاہدہ کرنا پڑے گا۔

ب: صورتِ مسئولہ میں اگر سائل حفاظت کی غرض سے مصنوعی بال یا وِگ لگانا چاہے، تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ وہ وِگ انسانی یا خنزیر کے بالوں سے تیار نہ کی گئی ہو،اور سر کا مسح کرتے وقت اس کو اتار کر مسح کیا جائے۔

لسان الحكام میں ہے:

"وفي خزانة الأكمل قال أبو العباس الناطفي رأيت بخط بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى ‌رجل ‌جعل ‌لأحد ‌بنيه ‌دارا ‌بنصيبه على أن لا يكون له بعد موت الأب ميراث جاز وأفتى به الفقيه أبو جعفر محمد ابن اليماني أحد أصحاب محمد بن شجاع البلخي وحكى ذلك عن أصحاب احمد بن أبي الحارث وأبي عمر والطبري انتهى."

(‌‌الفصل التاسع عشر في الهبة، ص : 373، ط : البابي الحلبي)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"(ووصل ‌الشعر ‌بشعر الآدمي حرام) سواء كان شعرها أو شعر غيرها لقوله عليه الصلاة والسلام: «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والموشرة والنامصة والمتنمصة» ؛ فالواصلة: التي تصل ‌الشعر ‌بشعر الغير، أو التي توصل شعرها بشعر آخر زورا."

(‌‌كتاب الكراهية، فصل في مسائل مختلفة، ج : 4، ص : 164، ط : دار الكتب العلمية)

المحيط البرہانی میں ہے:

"ولا يجوز ‌بيع ‌شعر ‌الخنزير؛ لأن الخنزير عينه نجس بجميع أجزائه منع الشرع عن الانتفاع به إهانة لعينه واستقباحاً لذاته."

‌‌كتاب البيع، ‌‌الفصل السادس: فيما يجوز وما لا يجوز بيعه،  ج : 6، ص : 350، ط : دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں