
ایک شخص کا انتقال ہو گیا، وہ سرکاری ملازم تھے، مرحوم کے انتقال کے بعد اس کی پنشن بیوہ کے نام جاری ہو گئی، اور بیوہ نے مذکورہ پنشن کے پیسے جمع کر کے اس سے ایک فلیٹ اپنی بیٹی کے نام خریدا، اور پھر مذکورہ فلیٹ بیٹی کو مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ ہبہ (گفٹ) کر دیا، جس کے بعد بیٹی اس فلیٹ میں رہنے لگی، پھر کچھ عرصہ بعد بیٹی نے اپنی والدہ کو بھی ساتھ رہنے کے لیے بلا لیا، کیوں کہ اس کی والدہ کرایہ کے مکان میں رہتی تھیں، اس دوران بیٹی نے فلیٹ میں کچھ فنشنگ کے کام بھی اپنے پیسوں سے کروائے۔
اب پانچ سال بعد والدہ اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہیں کہ یہ فلیٹ میرا ہے، تم یہاں سے نکل جاؤ، تو پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً یہ فلیٹ کس کی ملکیت ہے؟
واضح رہے کہ پنشن کی رقم سرکار کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے، اس لیے سرکار جس کے نام پر جاری کر دے، اسی کی ملکیت شمار ہوگی، اس میں مرنے والے کی وراثت جاری نہیں ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مرحوم شخص کی بیوہ نے اپنے شوہر کی ملنے والی پنشن (جوکہ بیوہ ہی کی ملکیت تھی) سے فلیٹ خرید کر اپنی بیٹی کو مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ ہبہ (گفٹ) کر دیا ہے تو شرعاً یہ بیٹی کی ملکیت شمار ہوگا، ایسی صورت میں والدہ کے لیے دوبارہ اپنی بیٹی سے فلیٹ لینے کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (والقاف القرابة فلو وهب لذي رحم محرم منه لا يرجع فيها) لقوله عليه الصلاة والسلام «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم لم يرجع فيها» ولأن المقصود منها صلة الرحم وقد حصل وفي الرجوع قطيعة الرحم فلا يرجع فيها."
(كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، 5/ 101، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها القرابة المحرمية)، سواء كان القريب مسلما أو كافرا، كذا في الشمني. ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا."
(كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة، 4/ 386، ط: دار الفكر)
امداد الفتاوی میں ہے:
”چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے۔“
(کتاب الفرائض، 4/ 343، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100012
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن