
1۔میرے سسر کا انتقال ہوا ہے،انہوں نے اپنی زندگی میں جب تندرست تھے یہ وصیت کی تھی کہ میرے اوپر ایک بیٹی کا 450000چارلاکھ پچاس ہزار روپے قرضہ ہے،جوکہ اس نےنقد کی صورت میں دیے تھے،اس کے علاوہ کسی اور کا کوئی قرض نہیں ہے،اب وہ بیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ میرے والد نے کہا تھا کہ میں آپ کوچار لاکھ کے عوض دو(2)تولہ سونابنواکر دوں گا،اب چونکہ والد کا انتقال ہواہے تو شریعت کا کیا حکم ہے کہ اس بیٹی کو چار لاکھ پچاس ہزار روپے دینے ہیں یا دوتولہ سونا کی قیمت دینی ہوگی۔
2۔مرحوم کی ایک دوسری بیٹی ہے جس نے آج سے دس سال پہلے اپنے بھائی کی شادی میں بقول ا س بیٹی کے چار لاکھ روپے لگائے تھے(وہ اس طرح کہ اس بیٹے کی، والد شادی نہیں کروارہے تھے کہ یہ کچھ اپنا کچھ بنائے اور سدھر جائے پھر کروائیں گے ابھی نہیں کرواتے تو بیٹی نے خود اپنے پیسے سے اس کی شادی کروائی تھی)جبکہ والد سے کوئی بات نہیں کی تھی ان پیسوں کے بارے میں ،اب ان کا مطالبہ ہے کہ والد کی جائیداد میں سے وہ پیسے مجھے دیئے جائیں،تو جو پیسے اس نے بھائی کی شادی میں لگائے تھےوہ اس کا حق بنتاہے یانہیں اور اس کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
1۔صورت ِ مسئولہ میں سائل کے سسر کے اوپر بیٹی کے ساڑھےچار لاکھ روپے جو قرضہ تھا اسے مرحوم کے ترکہ کی تقسیم سےقبل ترکہ سے ادا کیا جائے گا،دوتولہ سونایا اس کی موجودہ قیمت مرحوم کی مذکورہ بیٹی کونہیں دی جائے گی،اگرچہ سسر نے اسےزندگی میں قرض رقم کے عوض دوتولہ سونادینے کا ہی کہاہو۔
لہذا مذکورہ بیٹی کی جانب سےدوتولہ سونےکامطالبہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔
2۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ بیٹی نے اپنے بھائی کی شادی میں اپنی مرضی سے چار لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور خرچ کرتے وقت نہ کوئی صراحت کی تھی اورنہ ہی والد سےکوئی معاہدہ کیا تھا تو ایسی صورت میں مذکورہ بیٹی کےلیے چار لاکھ تبرع شمارہوں گے،جس کے مطالبے کااسے شرعاً حق نہیں ہوگا،البتہ اگر مذکورہ بھائی اپنے حصہ سےمذکورہ بہن کوکچھ دےدے،تو اس کی اجازت ہوگی۔
تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."
(كتاب البيوع،باب القرض،ج:1،ص: 279،ط:دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."
(كتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:525، ط: سعید)
وفيه أيضاً:
"فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل ..... (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا»؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض."
(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395، ط:سعيد)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہمیں ہے:
"المتبرع لا يرجع على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره اهـ.."
(كتاب الكفالة،ج:1،ص: 288،ط:دار المعرفة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102030
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن