بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا انتقال ماں باپ سے پہلے ہوجائے، تو بیٹی وارث نہیں بنے گی


سوال

ہم پانچ بہن بھائی ہیں، ہماری ایک بہن کا انتقال والدین کی موجودگی میں ہوگیاتھا، جس کی چار بچیاں شادی شدہ ہیں اور میاں زندہ ہیں اور ماں باپ کا انتقال پچھلے سال ہوا، کیا شرعی طور پر جو بہن والدین کی موجودگی میں  انتقال کر گئی اس کا   شرعی حصہ ہوگا؟ کیا اس کے بچوں کو ملے گا؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً میراث میں وارث حق دار تب بنتا ہے جب مورِث کے انتقال کے وقت وارث حیات ہو، اگر وارث مورث کے انتقال سے پہلے انتقال کرجائے، تو وارث یا ان کے وارثین(اولاد) وغیرہ حق دار نہیں بنتے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشروطه: ثلاثة: ‌موت ‌مورث ‌حقيقة، أو ‌حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا ‌حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط:سعيد)

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ بیٹی کا انتقال اپنے والدین کے انتقال سے پہلے ہوا ہے، تو والدین کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد میں شرعی طور پر مذکورہ مرحومہ بیٹی اور ان کی اولاد حق دار نہیں ہے، تاہم اگر دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے مرحومہ بہن کی اولاد کو تبرعاً کچھ دینا چاہیں، تو دے سکتے ہیں، یہ ان کے ساتھ احسان ہوگا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں