
میں گزشتہ تین سالوں سے اپنے خاوند سے ناچاقی اور ان کے غیر ذمہ دارانہ رویّے، یعنی اخراجات نہ اٹھانے کی وجہ سے، ان سے الگ اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں، خاندان کے بڑوں کی طرف سے بار بار معاملہ سلجھانے کی کوشش کی گئی، مگر ناکامی ہوئی،24 ستمبر 2025 کو میرے بیٹے نے اپنے والد، یعنی میرے خاوند، سے کہا کہ آپ ابھی میری والدہ کو طلاق دیں، اس پر کافی بحث ہوئی، پھر بیٹے نے چھری ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اگر آپ نے طلاق نہیں دی تو میں ابھی اپنے آپ کو ختم کر دوں گا، اس پر میرے خاوند نے کہا:"جا میں نے تیری ماں کو آج ایک دے دیا"اس کے بعد مزید کوئی طلاق نہیں دی،اس کے بعد ہم جدا رہے، اب عدت مکمل ہو چکی ہے اور انہوں نے کوئی رجوع نہیں کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جملے سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ طلاقِ رجعی ہوئی ہے یا طلاقِ بائن؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے بیٹے نے ہاتھ میں چھری لے کرجب یہ کہا کہ” اگر آپ نے ابھی میری والدہ کو طلاق نہ دی تو میں ابھی اپنے آپ کو ختم کر دوں گا“، اس کے جواب میں سائلہ کے شوہر نے جب یہ کہا:”جا میں نے تیری ماں کو آج ایک دے دی“تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی،عدت کے دوران شوہر کو رجوع کا حق حاصل تھا، پس اگر شوہر نے رجوع نہ کیا ہو تو عدت مکمل ہوتے ہی نکاح ٹوٹ گیاجس کے بعد اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے، البتہ اگر سائلہ اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کیلئے تیار ہو تو از سرِ نو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے، اس صورت میں سائلہ کے شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دوطلاقوں کا اختیار ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وفي المنتقى امرأة قالت لزوجها طلقني فقال الزوج قد فعلت طلقت."
(کتاب الطلاق، الباب الثانی،الفصل الاول،ج:1،ص:356،ط:ألمكتبة الحبيبة-كوئتهوفیہ ایضاً:
"و إذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض. الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.
(ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح)راجعتك في حال خطابهاأوراجعت امرأتي حال غيبتهاوحضورها أيضاومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعابهابلانية."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج:1، ص:470، رشيديه)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال [۲۱۰۲] : ایک لڑکے نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں یہ لفظ کہہ دیا: " طلاق دی نہیں ، دیدی دیدی دیدی تین چار مرتبہ کہہ دیا ہے، جس وقت یہ لفظ لڑکے نے کہا تھا اس کی بیوی گھر پر نہیں تھی۔ بیوی قریب آٹھ ماہ کی حاملہ ہے، اب وہ اور اس کی بیوی جدا ہونا نہیں چاہتے ۔ آپ حکم شرع سے مطلع فرمائیں کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی ؟ اور اگر ہو گی تو کون سی؟ کیا بغیر حلالہ کے نکاح جائز ہوگا ؟
الجواب حامداً ومصلياً: جب اس نے غصہ میں اپنی بیوی کو کہا کہ طلاق تو یہ ہلکا لفظ تھا جس میں رجعت کا حق حاصل تھا ، اس ہلکے پن کو ختم کرنے اور حق رجعت کو ختم کرنے کے لئے اس نے کہا: نہیں ، دیدی دیدی، تین چار مرتبه اسی طرح کہہ دیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک نہیں بلکہ تین، اور رجعی نہیں بلکہ مغلظہ دیدی، اب نہحق رجعت رہا، نہ بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی اجازت رہی ۔
(کتاب الطلاق ،باب الطلاق الصریح، ج: 12، ص:361،ط:فاروقی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101245
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن