
ہم چار بہن بھائی ہیں۔ ہم میں سے تین شادی شدہ ہیں۔ ہماری شادی پر ہماری والدہ نے اپنے سونے میں سے ہم تینوں کو کم و بیش پانچ سے چھ تولہ سونا دیا۔ اب ایک بھائی باقی ہے، والدہ اس کے نام پر بھی تقریباً اتنا ہی سونا، یعنی تقریباً 60 گرام، اس کی شادی کے لیے رکھنا چاہتی ہیں تاکہ اس کی شادی میں کام آئے۔
برائے کرم یہ بتائیں کہ جو سونا والدہ بھائی کے نام کرنا چاہتی ہیں، اس کی زکات والدہ دیں گی یا بھائی؟ بھائی کی عمر 26 سال ہے۔ نیز یہ بھی بتا دیں کہ 60 گرام سونے پر زکات ہوگی یا نہیں؟
واضح رہے کہ کوئی چیز محض نام کردینے سے ملکیت میں نہیں آتی جب تک کہ شرعی قبضہ نہ پایا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی والدہ مذکورہ سونا جب تک اپنے بیٹے کو نہیں دے دیتی اور وہ اس پر قبضہ نہ کر لے، اس وقت تک اس سونے کی زکات والدہ پر لازم ہے۔
مزید یہ کہ شریعت میں زکات کا نصاب اس شخص کے لیے، جس کے پاس صرف سونا ہو اور اس کے علاوہ اموالِ زکات (چاندی، نقدی، اموالِ تجارت) میں سے کچھ نہ ہو، ساڑھے سات تولہ، یعنی 87.480 گرام سونا ہے۔
اور اگر سونے کے ساتھ اموالِ زکات (چاندی، نقدی، اموالِ تجارت) میں سے بھی کچھ موجود ہو تو ایسی صورت میں اگر کل مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو زکات لازم ہوگی۔
لہذا اگر صرف سونا ساٹھ گرام ہےاور اس کے ساتھ اورکوئی قابل زکوۃ مال نہیں ہے تو زکات فرض نہیں ہوگی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(كتاب الهبة،الباب الثانی فیما یجوز من الهبة وما لایجوز، ج: 4،ص: 378، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101454
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن