
کیا ہم اپنے نومولود بیٹے کا نام "مُقتَصِد" (Muqtasid) رکھ سکتے ہیں؟ براہِ کرم اس نام کا درست مطلب بتا دیں اور شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ نام رکھنا باعثِ برکت اور درست ہے؟
"مُقتَصِد" ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں میانہ روی اختیار کرنے والا اور اعتدال پسند۔ یہ نام رکھنا شرعاً جائز ہے کیونکہ اس کے معنی اچھے ہیں اور اسلام میں اعتدال کو پسندیدہ وصف قرار دیا گیا ہے۔
یہ لفظ قرآن کریم میں سورۃ فاطر کی آیت نمبر 32 میں آیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کو تین گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے:
"فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ"(فاطر: 32)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ "مقتصد" وہ شخص ہے جو واجبات ادا کرنے والا اور محرمات ترک کرنے والا ہو، البتہ وہ کبھی بعض مستحبات چھوڑ دیتا ہے اور بعض مکروہات کر بیٹھتا ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس آیت کے ذیل میں سہل بن عبد اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ سابق عالم ہے، مقتصد متعلم ہے اور ظالم جاہل ہے، نیز ذو النون مصری کا قول نقل کیا ہے کہ مقتصد وہ ہے جو دل سے اللہ کو یاد کرے۔ ایک روایت میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ مقتصد کا حساب آسان ہوگا اور بالآخر وہ جنت میں داخل ہوگا۔
قرآن کریم میں یہ لفظ ایک خاص درجے کے مومن کے لیے استعمال ہوا ہے جو نہ تو اعلیٰ درجے کا ولی اللہ ہے اور نہ ہی گناہ گار، بلکہ درمیانی حال کا نیک آدمی ہے۔ یہ نام رکھناجائز ہے ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ﴾(سورة فاطر، الآية: 32)
ترجمہ: پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں․ اور بعضے ان میں خدا کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے۔ ( بیان القرآن ، ج: 3، ص: 227)
سنن نسائي میں ہے:
عن عقيل بن شبيب ، عن أبي وهب وكانت له صحبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله عز وجل عبد الله وعبد الرحمن،
( كتاب الخیل، ج: 6، ص: 218، ط: المصرية)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم»."
ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھا کرو۔
( كتاب الأدب، باب في تغيير الأسماء، رقم الحديث: 4948، ط: المكتبة العصرية)
"لسان العرب" میں ہے:
"والقَصْدُ في الشيء: خِلافُ الإِفْراط، وهو ما بين الإِسْراف والتَّقْتِير... والمُقْتَصِدُ: المعتدل."
.(لسان العرب، مادة: ق ص د، ج: 3، ص: 353، ط: دار صادر)
القاموس الوحید میں ہے:
"اِقْتَصَدَ فِي الْأَمْرِ: میانہ روی اختیار کرنا، درمیانی راہ چلنا۔المُقْتَصِدُ: میانہ رو، اعتدال پسند۔"
(القاموس الوحید، ص: 1307، ط: ادارہ اسلامیات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100228
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن