
1۔میرے والد صاحب اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں، میرے اور میری بہن کے درمیان، والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور یہ والد صاحب رضامندی کے ساتھ تقسیم کر رہے ہیں اور ہماری بہن کو کچھ مالی ضرورت درپیش ہے تو والد صاحب چاہتے ہیں جائیداد تقسیم ہو جائے،تاکہ ان کی مالی ضرورت بھی پوری ہو سکے، اب تقسیم کا کیا حکم ہے؟ والد صاحب ہم دونوں کے درمیان جائیداد کس طرح تقسیم کریں اور کتنی جائیداد ہم دونوں کو دینے کی شرعاًً گنجائش ہے؟
2۔ہمارے والد صاحب کا ایک گھر ہے اس میں میں والد صاحب رہتے ہیں،لیکن وہ گھر والد صاحب نے میرے نام کیا ہوا ہے تو کیا یہ گھر بھی تقسیم میں شمار ہوگا؟ جبکہ والد صاحب اس گھر میں رہتے ہیں اور مذکورہ گھر مکمل طور پر میری ملکیت کب شمار ہوگااور والد صاحب کی ملکیت کب شمار ہوگا تاکہ معلوم ہو سکے تقسیم میں شامل کیا جائے یا نہیں۔
1۔صورت مسئولہ میں زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا سائل كے والد پر شرعاً لازم نہیں هے، اور سائل کے والد اپنی تمام جائیداد كے تنہا مالک ہیں، اور اپنی جائیداد میں ہر قسم کا جائز تصرف کرنے کا حق رکھتے ہیں،ان کی زندگی میں ان کی منقولہ وغیر منقولہ جائیداد میں بچوں کا شرعا كوئی حق نہیں،جس کی بناء پر اولاد میں سے کسی کو جائیداد کی تقسیم کے مطالبہ کا بھی حق نہیں ہوگا۔ البتہ اگر پھر بھی سائل کے والد کسی جبر و اکراہ کے بغیر برضا و خوشی جائیداد کی تقسیم کے خواہش مند ہیں،تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے جتنا چاہیں، حصہ مختص کرنے کے بعد، بیٹے اور بیٹی کو برابر حصہ مکمل قبضے کے ساتھ دے دیں، ایک کو کم اور ایک کوزیادہ نہ دیں، جتنا بیٹے کو دیں اتنا ہی بیٹی کو دیں۔
2۔والد کا گھر سائل کے نام کرنے سے گھر سائل کا نہیں ہوا ہے،بلکہ بدستور سائل کے والد کی ہی ملکیت ہے، لہذا اگر سائل کے والد سائل کو مکان ہبہ (گفٹ) کرنا چاہتے ہیں تو مکمل مالکانہ اختیارات کے ساتھ اپنے سازوسامان سمیت گھر سے كچھ وقت كے ليے نکل کر گھر سائل کے حوالے کردیں،تو گھر سائل کی ملکیت میں آجائے گا، اگرچہ پھر سائل کے والد سائل کے ساتھ اسی گھر میں رہیں، لیکن اگر وہ اس طریقہ سےہبہ( گفٹ) نہیں کرتے ہیں یا سائل کو نہیں دینا نہیں چاہتے ہیں تو وہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کی صورت میں یہ گھر بھی تقسیم ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال:فأرجعه و في رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."
(باب العطایا، ج: 1، ص: 261، ط: قدیمی)
ترجمہ:
"حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ … آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(مظاہر حق،باب العطایا ،ج:3، ص: 193 ط: داراالاشاعت)
مجمع الانھر میں ہے:
"وفي السراجية وينبغي أن يعدل بين أولاده في العطايا، والعدل عند أبي يوسف أن يعطيهم على السواء هو المختار كما في الخلاصة."
(کتاب الھبة، أركان الهبة، ج:2، ص:358، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."
)کتاب الھبة، ج: 5، ص: 689، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".
(کتاب الهبة، ج: 5، ص: 290، ط: سعید)
فتاوى تاتارخانیة میں ہے:
"و في المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، و كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار."
(كتاب الهبة، فيما يجوز الهبة ومالايجوز، ج: 14، ص: 431، ط: زكريا)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة ومالا يجوز، ج: 4، ص: 378، ط: رشيديه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102163
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن