
ایک والد کے دو بیٹے تھے، ان دو بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا انتقال والد سے پہلے ہو گیا، اس کے بعد والد کا انتقال ہوا، پوچھنا یہ ہے کہ والد کا ترکہ زندہ بیٹے اور مرحوم بیٹے کی اولاد دونوں میں تقسیم ہوگا؟ یا صرف زندہ بیٹے کو ملے گا اور مرحوم بیٹے اور اس بیٹے کی اولاد کا کچھ حصہ نہیں ہوگا ؟
صورتِ مسئولہ میں جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہو گیا تھا اس بیٹے کی اولاد کا اپنے دادا کے ترکے میں شرعی طور پر کوئی حصہ نہیں ہوگا، لہذا کل ترکہ زندہ بیٹے کو ملے گا، تاہم مرحوم بیٹے کی اولاد کو بالکلیہ محروم کر دینا مناسب نہیں، اگر ان کو کچھ دے دیا جائے تو مستحب ہو گا اور ثواب کا باعث ہو گا۔
صحيح بخاری میں ہے :
"وقال زيد: ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن."
(باب میراث ابن الابن: ج:8، ص: 151، ط: دار طوق النجاہ)
ترجمہ: ’’اور حضرت زید فرماتے ہیں: جب بیٹے موجود نہ ہوں تو پوتے بیٹے کے درجہ میں ہوتے ہیں، پوتے بیٹوں کی طرح ہیں، اور پوتیاں بیٹیوں کی طرح ہیں، وہ اسی طرح وراثت پاتے ہیں جس طرح بیٹے اور بیٹیاں وراثت پاتے ہیں، اور پوتے پوتیاں اسی طرح روکنے والے بنتے ہیں جس طرح بیٹے اور بیٹیاں روکتے ہیں، اور بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں بنتا۔‘‘
اللباب میں ہے:
"ومن شرط الإرث تحقق موت الموروث وحياة الوارث."
(كتاب المفقود ، ج : 2 ، ص : 217 ، ط : المكتبة العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن."
(كتاب الفرائض ، ج : 6 ، ص : 452 ، ط : دار الفكر)
تفسير القرطبي الجامع لأحكام القرآن میں ہے:
"وإذا حضر القسمة أولوا القربى واليتامى والمساكين فارزقوهم منه وقولوا لهم قولا معروفا.
فيه أربع مسائل: الأولى- بين الله تعالى أن من لم يستحق شيئا إرثا وحضر القسمة، وكان من الأقارب أو اليتامى والفقراء الذين لا يرثون أن يكرموا ولا يحرموا، إن كان المال كثيرا، والاعتذار إليهم إن كان عقارا أو قليلا لا يقبل الرضخ. وإن كان عطاء من القليل ففيه أجر عظيم،۔۔۔۔۔قال ابن عباس: أمر الله المؤمنين عند قسمة مواريثهم أن يصلوا أرحامهم، ويتاماهم ومساكينهم من الوصية، فإن لم تكن وصية وصل لهم من الميراث. قال النحاس: فهذا أحسن ما قيل في الآية، أن يكون على الندب والترغيب في فعل الخير، والشكر لله عز وجل. وقالت طائفة: هذا الرضخ واجب على جهة الفرض، تعطي الورثة لهذه الأصناف ما طابت به نفوسهم، كالماعون والثوب الخلق وما خف. حكى هذا القول ابن عطية والقشيري. والصحيح أن هذا على الندب، لأنه لو كان فرضا لكان استحقاقا في التركة ومشاركة في الميراث، لأحد الجهتين معلوم وللآخر مجهول."
(سورة النساء : آية 8،ج:5،ص:48،ط:دار الكتب المصرية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101468
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن