
اپنی موجودہ بیوی کی بیٹی سے (جو میرے نسب سے نہیں ہے)نسبی بیٹے کی شادی کروانا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اپنے نسبی بیٹے کا نکاح (جو کہ دوسری بیوی سے ہو) اپنی موجودہ بیوی کی بیٹی (جوکہ دوسرے شوہر سے ہو) سے کروانا جائز ہے، بشرط یہ کہ اس کے علاوہ حرمت کا کوئی رشتہ (مثلاً: رضاعت) نہ ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال.
(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر. قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ."
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 31، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي."
(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج: 1، ص: 277، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100060
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن