بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1448ھ 04 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹا لاپتہ ہو اور والد اپنی اولاد میں زندگی میں مال تقسیم کرے تو کیا پوتے کو مال دینا دادا پر لازم ہے؟


سوال

میرا ایک بیٹا1996 سے لاپتہ ہے، جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا، جس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے، اس کی بیوی،  ایک بیٹااور ایک بیٹی ہے،میں اپنی زندگی میں باقی بیٹوں کو جائیداد دینا چاہتا ہوں، میرے لاپتہ بیٹے کا بیٹا یعنی میرا پوتا یہ کہتا ہے کہ مجھے بھی اس میں آپ دوسرے بیٹوں کی طرح برابر کا حصہ دیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے اس پوتے کا مطالبہ صحیح ہے یا غلط؟ اور کیا میرے اوپر اس کو دینا ضروری ہے یا نہیں؟شریعت میں جو برابری کا حکم ہے، وہ اس پوتے کے حق میں ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟اگرچہ اس پوتے کو میں بہت کچھ دے چکا ہوں۔

وضاحت:

جس وقت بیٹا گم ہوا تھا،اس وقت ان کی عمر تقریبا 36 سال تھی، اور اب اس پر مزید 30 سال کا عرصہ گزرچکا ہے، اور اس کی زندگی موت کا کچھ پتا نہیں ہے، ہم نے اپنی بساط کے مطابق اس کو ڈھونڈنے کی کافی کوشش کی تھی، لیکن ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔  

جواب

زندگی میں انسان اپنےاموال کا تنہا مالک اور خود مختار ہوتا ہے، زندگی میں انسان پر اپنی اولاد  میں مال تقسیم کرنا لازم نہیں ہے، اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی اولاد میں اپنا مال تقسیم کرتا ہے تو اسے حکم یہ ہے کہ اپنی اولاد میں برابری کرے، صورت مسئولہ میں سائل پر اپنی اولاد میں سے کسی کو بھی زندگی میں مال ہدیہ کرنا لازم نہیں ہےاور سائل کا جو بیٹا لاپتہ ہے اس بیٹے کی اولادکو مال دینا بھی سائل پر لازم نہیں ہے،اگر سائل اپنی خوشی سے کسی کے جبر و اکراہ اور مطالبہ کے بغیر اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کررہا ہے تو سائل پر لازم ہے کہ اولاد میں برابری کرے، اگر سائل اپنی اولاد کو مال دینے کے ساتھ اپنے لاپتہ بیٹے کی اولاد کو بھی مال دیتا ہے تو یہ سائل کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا، جس کا بدلہ سائل کو ان شاء اللہ رب تعالی عطاء کرے گا۔

باقی سائل کے پوتے کا یہ کہنا کہ  مجھے بھی اس میں آپ دوسروں بیٹوں کی طرح برابر کا حصہ دیں درست نہیں ہے۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے؛

'' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا قال: فأرجعه. وفي رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."

(باب العطایا، ج: 1،ص: 261، ط: قدیمی)

ترجمہ :

حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔“

(مظاہر حق جدید،باب العطایا، ج:  3، ص: 193 ط: دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: اتقوا الله واعدلوا في أولادكم، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل."

(كتاب الوقف، ج: 4، ص: 444 ط: سعيد)

وفیه ایضا:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإن شاغلا لا...."

(کتاب الھبة، ج:  5، ص: 690، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101446

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں