بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیرون ممالک میں مسلمانوں کا ایسی گروسری اسٹورز میں کام کرنا جہاں حرام اشیاء کی فروخت ہوتی ہو


سوال

 میں غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کے گروسری اسٹورز میں کام کرنے کے معاملے پر آپ کی محترم راہ نمائی کے لئے لکھ رہا ہوں، ہم میں سے بہت سے لوگ گروسری اسٹورز میں ملازمت کرتے ہیں جو سبزیوں، دودھ اور دیگر روزمرہ کی ضروریات جیسی اشیاء فروخت کرتے ہیں، تاہم یہ اسٹورز الکحل، سگریٹ اور غیر حلال گوشت، بشمول سور کا گوشت، بھی فروخت کرتے ہیں، ملازمت کی نوعیت دو بنیادی ذمہ داریوں پر مشتمل ہوتی ہے: شیلف میں سامان رکھنا: ملازمین کو گروسری اور دیگر اشیاء کو ریک میں ترتیب دینا ہوتا ہے۔ سیلز کاؤنٹر: ملازمین کاؤنٹر پر سیلز کے معاملات سنبھالتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ الکحل، سگریٹ، غیر حلال گوشت اور دیگر اشیاء فروخت کرتے ہیں، ان اسٹورز میں کام کرنے والے افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف: گھر والوں کا سہارا بننے والے: یہ وہ افراد ہیں جو ان ملازمتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔

ب:طلبہ: یہ نوجوان افراد ہیں، جن کی عمر 18 سال یا اس سے کم ہے، جو جز وقتی یا موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اپنی جیب خرچ کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کی کوئی خاندانی ذمہ داریاں نہیں ہیں۔

اس صورتِ حال کے پیش نظر، ہم آپ کی راہ نمائی چاہتے ہیں: کیا مسلمانوں کے لئے ان گروسری اسٹورز میں کام کرنا جائز ہے، خاص طور پر الکحل، سگریٹ، اور غیر حلال گوشت فروخت کرنے کے حوالے سے؟کیا اس حکم میں کوئی تبدیلی آتی ہے اگر ملازم خاندان کا کفیل ہو یا جیب خرچ کے لئے کام کرنے والا طالب علم ہو؟اگر مسلمان خود کو ایسی ملازمت کی صورتحال میں پائیں تو انہیں کونسی خاص شرائط یا احتیاطی تدابیر اپنانی چاہیے؟ ہم اپنے علماء کی راہ نمائی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمیں ایسا حل ملے گا جو ہماری عملی ضروریات اور مذہبی فرائض کے درمیان توازن پیدا کرے، ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں اور دعا گو ہیں کہ آپ امت کی راہ نمائی میں کامیاب ہوں۔ 

جواب

واضح رہےکہ   مسلمان کے  لیے  شریعتِ مطہرہ میں جو  چیز حرام ہے، اس حرام چیز کا خریدنا یا فروخت کرنا کرنا بھی حرام ہے،لہذاجب خنزیرکاگوشت اوردیگرحرام گوشت  وحرام اشیاء مسلمانوں کےلیے حلال نہیں ہےتواس کو خریدنا یا فروخت کرنایااس میں معاونت کرنابھی مسلمان کےلیے جائز نہ ہوگا،اسی طرح    سبزیوں اور پھلوں سے کشیدہ الکحل کےعلاوہ انگور، منقی اورکھجور سے کشید کرکے تیار کیے گئےالکحل  کااستعمال نجس و ناپاک ہونےکی وجہ سےمسلمانوں کےلیےحرام ہے،تو ایسےالکحل کوفروخت کرنا بھی مسلمانوں کےلیےجائز نہ ہوگا،اور سیگریٹ  نوشی منہ میں بدبو کا سبب ہونے کی وجہ سےمسلمان کےلیے مکروہِ تنزیہی ہے،حرام و ناجائز نہیں ہے، اسی وجہ سےمسلمان کےلیے سیگریٹ کوفروخت کرنابھی  جائز ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں غیرمسلم ممالک میں مقیم مختلف گروسری اسٹورز میں ملازم  مسلمانو ں کو اگر حرام اور ناجائز چیزوں کو فروخت کرنے  اوران کوریک میں ترتیب سےرکھنےمیں  حصہ لیناپڑتا ہو تو اس کام کامعاوضہ وصول کرنا ناجائز ہوگا ،اوراس حکم میں تمام مسلمان برابرہیں خواہ  کوئی مسلمان اپنےخاندان کےلیےایسی ملازمت کرےیااپنی جیب خرچ کےلیےایسی جاب کرے،لہذا متبادل مکمل حلال روزگارکے حصول  کی کوشش کیجیے، یا جس ادارےیا گروسری اسٹور سےآپ کا تعلق ہے اس کی انتظامیہ سے درخواست کریں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سےہم آپ کے لیے حرام اشیاء کی فروخت کااوران کوریک میں ترتیب سے رکھنے کاکام نہیں کرسکتےہیں،اس لیے صرف حلال اشیاء کی فروخت اوران کی ریک میں ترتیب سےرکھنےکاکام ہمارےذمہ  لگایا جائے،اور جب تک مذکورہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں توبہ و استغفار کرتے رہیں اور حرام اشیاء کی فروخت اورریک میں ترتیب سےرکھنے پر حاصل ہونے والی رقم حساب کرکےبغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردیں، تاہم جو پیسے حلال اشیاء کی فروخت اوران کوریک میں ترتیب سےرکھنے کے عوض ملے ہوں، ان کا استعمال جائز ہے،مثلاًگروسری اسٹورمیں اگر20فیصدحرام اشیاءہوں اور80فیصد حلال اشیاء ہوں توسیلری میں20فیصدرقم بغیرثواب کی نیت کے فقراء مساکین کوصدقہ کردیں۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ[المائدة: 2]"

"ترجمہ:  نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کر تے رہو  گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی  اعانت مت کرو اور اللہ تعالی سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ تعالی سخت  سزا دینے والے ہیں "( بیان القرآن )

"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ.[المائدة:3]"

ترجمہ:تم پر حرام کیے گئے  مردار اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ  غیر  اللہ کے لیےنامزد کردیا گیا ہو( بیان القرآن )

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى(وتعاونوا على البر والتقوى) يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى(ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورة المائدة،الآية:3 ،ج:3، ص:296، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو استأجر مسلما ليرعى له الخنازير يجب أن يكون على الخلاف كما في الخمر ولو استأجره ليبيع له ميتة لم يجز هكذا في الذخيرة."

(كتاب الاجارة،الباب السادس،450/4، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(و لايجوز بيعها) لحديث مسلم: «إن الذي حرم شربها حرم بيعها».

(قوله: في حق المسلم) أما الذمي فهي متقومة في حقه كالخنزير حتى صح بيعه لهما، ولو أتلفهما له غير الإمام أو مأموره ضمن قيمتها له كما مر في آخر الغصب.

(قوله: لا ماليتها في الأصح) لأن المال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع، فتكون مالًا لكنها غير متقومة لما قلنا أتقاني."

(کتاب الأشربة، ج:6، ص:449، ط: سعید)

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي.

و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخري، ولا يحكم بنجاستها أخذا بقول أبي حنيفة رحمه الله.

و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لا تتخذ من العنب او التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."

(كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم)

بذل المجہود میں ہے :

 "ومتفق عليه أن كل اُجرة تكون علی فعل المعصية تكون حراما."

(کتاب الإجارة، باب في كسب الحجام، 129/11، ط: دارالبشائر ) 

فتاوی شامی میں ہے

"وما كان سببا لمحظور فهو محظور."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:350، ط: دار الفکر)

کفایت المفتی میں ہے:

"(سوال ) میں نے ایک دکان فی الحال کھولی ہے جس میں متفرق اشیاء ہیں، ارادہ ہے کہ سگریٹ اور پینے کا تمباکو بھی رکھ لوں، یہ ناجائز تو نہیں ہوگا ؟

( جواب ۱۶۳) سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے او ر اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے۔"

(کتاب الحظر و الاباحۃ ،جلد ۹ ص: ۱۴۸ ط: دارالاشاعت کراچی)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"سوال: حقہ پینا، تمباکو کا کھانا یا سونگھنا کیسا ہے؟ حرام ہے یا مکروہ تحریمہ یا مکروہ تنزیہہ ہے؟ اور تمباکو فروش اور نیچے بند کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟

جواب: حقہ پینا، تمباکو کھانا مکروہِ تنزیہی ہے اگر بو آوے، ورنہ کچھ حرج نہیں اور تمباکو فروش کا مال حلال ہے، ضیافت بھی اس کے گھر کھانا درست ہے۔"

(حرمت اور جواز کے مسائل ص:۵۶۳ ،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی پاکستان)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144602100491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں