
کیا بینک ملازم کی جانب سے عطیہ کردہ خون لگوانا جائز ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی مریض اضطراری حالت میں ہو اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون لگائے بغیر اس کی جان جانے یا مرض طویل ہوجانے کا اندیشہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت حال میں خون کا عطیہ کرنا جائز ہے،خواہ وہ کوئی بھی انسان کرے بینک ملازم ہو یا کسی اور شعبے میں کام کرنے والا،لہذا صورت مسئولہ میں بینک ملازم کی جانب سے عطیہ کیا گیا خون لگوانا فی نفسہ تو جائز ہے،البتہ اگر کسی حلال کمائی کھانے والے کا خون مل رہا ہو تو پھر بینک کے ملازم کاخون نہ لگایا جائے،تاکہ اس کی حرام کمائی کی غذا کے اثرات اس کے جسم میں منتقل نہ ہوں، اسی لیےفقهاءِ امت نے شیر خوار بچے کو فاسقہ عورت کا دودھ پلوانا بھی پسند نہیں کیا ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
"مطلب في التداوي بالمحرم (قوله ورده في البدائع إلخ) قدمنا في البيع الفاسد عند قوله ولبن امرأة أن صاحب الخانية والنهاية اختارا جوازه إن علم أن فيه شفاء ولم يجد دواء غيره ...... إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاءه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه."
(كتاب السلم ،مطلب في التداوي بالمحرم،ج:5،ص:228 ،ط:سعيد)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے :
"الارتضاع بلبن الفجور:
قال أحمد بن حنبل: يكره الارتضاع بلبن الفجور ولبن المشركات؛ لأنه ربما أفضى إلى شبه المرضعة في الفجور، ويجعلها أما لولده فيتعير بها، ويتضرر طبعا وتعيرا، والارتضاع من المشركة يجعلها أما لها حرمة الأم مع شركها، وربما مال إليها المرتضع وأحب دينها. وروي عن عمر بن الخطاب وعمر بن عبد العزيز أنهما قالا: اللبن يشتبه، فلا تستق من يهودية، ولا نصرانية ولا زانية، ويكره بلبن الحمقاء كي لا يشبهها الطفل في الحمق."
(رضاع، الارتضاع بلبن الفجور، ج:22، ص:255، ط:دارالسلاسل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100833
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن