
ایک بندہ اچانک بیمار ہوا، اور 16 سال تک بیمار رہا، ان سالوں میں سے صرف چھ سال تک نماز روزہ وغیرہ ادا کرتا رہا،پھر بیماری کی شدت زیادہ ہوگئی، لیکن وہ وضو کرکے بیٹھ کر اور اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے دس سال تک نمازیں نہیں پڑھیں،اور روزے بھی نہیں رکھے۔
اس بندے کی نماز اور روزوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟اگر اس بندے نے وصیت کی ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟اور اگر وصیت نہ کی ہو تو کیا حکم ہے؟اور مال چھوڑا ہو یا نہیں ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ مرض کے دوران بھی مریض کو اپنی نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے، جیسے بھی ممکن ہو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا لیٹ کر اشارے سے اپنی نماز ادا کرنا ضروری ہے،نماز رہ جانے کی صورت میں قضا لازم ہو گی،ہاں اگر مریض سر کے اشارے سے بھی نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، بلکہ نماز کی فرضیت ایسے مریض کے حق میں ساقط ہوجاتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص میں اتنا افاقہ تھا کہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا تھا لیکن پڑھی نہیں ، تو ان دنوں کی نمازوں کا حساب کرکے ان کا فدیہ ادا کردیا جائے۔
باقی فدیہ کی ادائیگی سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگرمذکورہ شخص نے فدیہ دینے کی وصیت کی ہے اور ترکہ میں مال بھی چھوڑا ہے تو ( مرحوم پر اگر قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد بقیہ ترکہ کے)ایک تہائی ترکہ سے اس کی وصیت کے مطابق فدیہ ادا کرنا ورثاء پر لازم ہوگا اور اگر مرحوم نے وصیت ہی نہ کی ہو، یا وصیت تو کی ہو، مگر مال نہ چھوڑا ہو تو ورثاء پر وصیت پر عمل کرنا لازم نہیں ہوتا، ایسی صورت میں ورثاء کے ذمے فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثا اپنی خوشی سے اس کی نماز روزوں کا فدیہ ادا کردیں گے تو یہ مرحوم کے ساتھ نیکی ہوگی ، اور امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے،اورہر نماز اور ہر روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر (گندم کے اعتبار سے پونے دو کلو گندم یا پونے دو کلو گندم کی مارکیٹ کی قیمت ہے، احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت) ہوتا ہے،ایک دن میں وتر کے ساتھ کل چھ نمازیں ہوتی ہیں،جن کے چھ فدیے دینے ہوتے ہیں،اور فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے یعنی مسلمان فقیر جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو ،لہٰذا ورثاء مرحوم کی نماز روزوں کے حساب سے ان کی کل قضا شدہ روزوں اور نمازوں کا اندازہ لگاکر فی نماز پونے دو کلو گندم یا اس کاآٹا یا اس کی موجودہ قیمت کسی ایسے مسلمان فقیر جو سید اور ہاشمی نہ ہو اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو کو ادا کردیں تو فدیہ ادا ہوجائے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله)
(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.
واعلم أيضا أن المذكور فيما رأيته من كتب علمائنا فروعا وأصولا إذا لم يوص بفدية الصوم يجوز أن يتبرع عنه وليه. والمتبادر من التقييد بالولي أنه لا يصح من مال الأجنبي. ونظيره ما قالوه فيما إذا أوصى بحجة الفرض فتبرع الوارث بالحج لا يجوز، وإن لم يوص فتبرع الوارث إما بالحج بنفسه أو بالإحجاج عنه رجلا يجزيه. وظاهره أنه لو تبرع غير الوارث لايجزيه، نعم وقع في شرح نور الإيضاح للشرنبلالي التعبير بالوصي أو الأجنبي فتأمل، وتمام ذلك في آخر رسالتنا المسماة شفاء العليل في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل."
(باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:72، ط:ايج ايم سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب ."
(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر.
(قوله: فإن ماتوا إلخ) ظاهر في رجوعه إلى جميع ما تقدم حتى الحامل والمرضع وقضية صنيع غيره من المتون اختصاص هذا الحكم بالمريض والمسافر. وقال في البحر: ولم أر من صرح بأن الحامل والمرضع كذلك، لكن يتناولهما عموم قوله في البدائع من شرائط القضاء القدرة على القضاء فعلى هذا إذا زال الخوف أياما لزمهما بقدره بل ولا خصوصية فإن كل من أفطر بعذر ومات قبل زواله لا يلزمه شيء فيدخل المكره والأقسام الثمانية. اهـ.ملخصا من الرحمتي (قوله: أي في ذلك العذر) على تقدير مضاف أي في مدته (قوله: لعدم إدراكهم إلخ) أي فلم يلزمهم القضاء ووجوب الوصية فرع لزوم القضاء وإنما تجب الوصية إذا كان له مال في شرح الملتقى ط (قوله: بقدر إدراكهم إلخ) ينبغي أن يستثنى الأيام المنهية لما سيأتي أن أداء الواجب لم يجز فيها قهستاني."
(كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، ج:2، ص:424، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100342
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن