
ایک شخص پاکستان سے عمرہ کرنے گیا، پھر اس نے عمرہ ادا کیا، مکہ مکرمہ میں رہائش کے دوران اس نے مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن وہ اچانک اس قدر بیمار ہو گیا کہ وہ عمرہ ادا کرنے پر قادر نہ رہا اور اسی بیماری کی حالت میں اس کی وطن واپسی کی تاریخ آگئی، اور وہ عمرہ ادا کیے بغیر پاکستان واپس ہوا، وہاں اس نے احرام سے نکلنے کے لیے دم بھی نہیں دیا، تو اِس کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص احرام کے باندھنے کے بعد بیماری کی وجہ سے عمرہ ادا نہ کرسکا، اور وہ عمرہ اور احرام سے نکلنے کے لیے دم دیے بغیر پاکستان واپس آگیا، تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص پر دو دم لازم ہوں گے،ایک دم عمرے کے افعال کیے بغیر احرام سے نکلنے کی وجہ سے، اور دوسرا دم احرام کی حالت میں جنایات کے ارتکاب کرنے کی وجہ سے، نیز اس شخص پر عمرہ کی قضاء بھی لازم ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے:
"لمن أحصر بعدو أو مرض أن يبعث شاة تذبح عنه فيتحلل ... يواعد من يبعثه بأن يذبحها في يوم معين ... وعلى المحصر بالحج إن تحلل حجة وعمرة، وعلى المعتمر عمرة."
(كتاب الحج، باب الإحصار في الحج أو العمرة، 3/ 57 - 59، ط: دار الكتاب الإسلامي)
غنیۃ الناسک میں ہے:
"ولو ظن ذبحه في يوم المواعدة ففعل كالحلال، أو ذبح في الحل ففعل كالحلال على ظن الذبح في الحرم فظهر خلافه لزمه جزاء ما جنى ... إن المحرم لو نوی الرفض ففعل كالحلال على ظن خروجه من الإحرام بذلك لزمه دم واحد لجميع ما ارتكب."
(باب الإحصار، حكم جناية المحصر بظن التحلل، ص: 480، ط: المصباح)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100911
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن