بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

بیماری کی وجہ سے روزہ توڑنے کے صورت میں کفارہ کاحکم


سوال

عمر 71 سال شوگر ڈیپریشن اور معدے کا دائمی مریض ہوں روزہ رکھنے کی ہمت نہیں رہی کیا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوگرڈپر یشن اور معدے کی  بیماری  کی وجہ سے  اگر واقعتاً روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہیں رہی ہو،  نہ ہی سردی کے ایام میں قضا کرنے کی طاقت ہو اور نہ ہی مسقبل میں روزہ رکھنے کی طاقت ملنے کی امید ہو، تو  روزوں کا فدیہ رمضان شروع ہونے کے بعد ادا کرنا ضروری ہوگا، ہر روزہ کے بدلے ایک صدقہ فطر یعنی کم از کم پونے دو کلو گندم( احتیاطاً دو کلو )  یا اس کے بقدر رقم ادا کرنی ہوگی ،البتہ اگر مستقبل میں روزہ رکھنے کی ہمت حاصل ہوگئی تو ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا، ایسی صورت میں ادا کردہ فدیہ نفلی صدقہ ہوجائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوباً، ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير، كالفطرة لو موسراً.

(قوله: وبلا تعدد فقير) أي بخلاف نحو كفارة اليمين للنص فيها على التعدد، فلو أعطى هنا مسكيناً صاعاً عن يومين جاز، لكن في البحر عن القنية: أن عن أبي يوسف فيه روايتين، وعند أبي حنيفة لايجزيه كما في كفارة اليمين، وعن أبي يوسف: لو أعطى نصف صاع من بر عن يوم واحد لمساكين يجوز، قال الحسن: وبه نأخذ اهـ ومثله في القهستاني."

( كتاب الصوم ،فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم ،ج:2 ،ص:427 ،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں