بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دمہ اور پھیپھڑوں کی بیماری کی وجہ سے روزوں کا فدیہ ادا کرنا


سوال

ایک عورت ہے جو دمے کی بیماری کا شکار ہے اور پھیپھڑے بھی خراب ہیں تو ان بیماریوں کی وجہ سے وہ دن رات میں چار چار ،پانچ پانچ گھنٹے کے وقفے کے ساتھ انہیلر،  ادویات اور  ٹیبلٹ وغیرہ استعمال کرتی ہے،  جس کی وجہ سے اس نےگیارہ بارہ سال رمضان کے روزے نہیں رکھے ہیں،  جب بھی رکھنے کی کوشش کی ہے تو چار پانچ روزے رکھ کر سخت بیمار ہو گئی ہے اور باقی روزے چھوڑ دیے ہیں،  لیکن ان مذکورہ  بالا  سالوں میں ایسا وقت بھی آیا ہے کہ پورا مہینہ روزہ رکھ کر کچھ نہیں ہوا،  لیکن بعد میں پھر وہی بیماری ، وہی مسئلہ ہے،  رمضان کے علاوہ باقی مہینوں میں بھی ایسا ہی مسئلہ ہے، اس لیے وہ   وہ قضا بھی  نہیں کر سکتی تو اس کے لیے کیا حکم ہے اور کیا کیا کرنا چاہیے روزوں کے بارے میں  ؟  اور کیا وہ گیارہ، بارہ سالوں کے  روزوں کا فدیہ دے سکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ عورت   دمہ اور پھیپھڑے  کی بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتی ، روزہ رکھنے کی صورت میں تکلیف میں مبتلا ہونے کا یا  مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے  اور ماہر ، دین دار ڈاکٹر اس کو اس بیماری کی وجہ سے روزہ  نہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تو اس کے لیے  روزہ نہ رکھنا جائز ہے،  اب اگر اس کو آئندہ صحت یابی کی امید ہے یا سردیوں کے ایام میں روزے رکھنا ممکن ہو تو   وہ روزوں کا حساب رکھے، اور جب ممکن ہو  ان روزوں کی آہستہ آہستہ قضا کرتی رہے، لیکن اگر اس کی بیماری ایسی ہے کہ اس کو آئندہ بھی روزہ رکھنے کی طاقت کی امیدنہیں تووہ زندگی میں روزوں کو  فدیہ اداکرسکتی ہے،  تاہم فدیہ ادا کرنے کے بعد  اگر موت سے پہلے  روزہ رکھنے کی طاقت حاصل ہو جائے اور وقت بھی ملے تو  ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا،  فدیہ صدقۂ نافلہ سے تبدیل ہوجائے گا۔ اورایک روزے  کا فدیہ  ایک صدقۃ الفطر  کے برابر  یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی موجودہ قیمت ہے۔

اگر زندگی میں روزوں کی قضا نہیں کی اور نہ ہی فدیہ ادا کیا تو مرنے سے پہلے اپنے مال کے ایک تہائی سے روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنا ضروری ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا... ومتى قدر قضى لأن استمرار العجز شرط الخلفية"

(قوله: وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اهـ وكذا ما في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء (قوله العاجز عن الصوم) أي عجزا مستمرا كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء فتح (قوله ويفدي وجوبا) لأن عذره ليس بعرضي للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية نهر، ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية."

(کتاب الصوم،‌‌ فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، 2/ 427، ط: سعید)

حاشیۃ الطحاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وتلزمهما الفدية" وكذا من عجز عن نذر الأبد لا لغيرهم من ذوي الأعذار "لكل يوم نصف صاع من بر."

(کتاب الصوم،‌‌ فصل في العوارض، ص،688، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں