
2000ء میں ایک دینی ادارے کے افتتاح کرتے ہوئے ایک باصلاحیت دوست قاری وعالم صاحب کو بطور ناظم مقرر کیا، مولانا نے 25 سال ادارے کی خدمت کی، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ادارہ چند افراد سے چند کلاسوں تک پہنچ گیا، کچھ عرصہ پہلے مولانا کو دل کا عارضہ لائق ہوا، جس کی وجہ سے بیٹری لگ گئی مولانا ادارے کو کم وقت دینے لگے،لیکن ادارے نے ان کی خدمات کی وجہ سے ماہانہ مشاہرہ سے کوئی کٹوتی نہیں کی، اب مولانا نے خود سے استعفی دے دیا، معلوم یہ کرنا ہے کہ مولانا کے سروس اور خدمات کو مدنظر رکھ کر ادارے کے فنڈ سے ماہانہ کچھ عطیہ دینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کتنی مقدار دینا جائز ہے؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں، جب ناظم صاحب نے ادارے سے استعفیٰ دے دیا, اور ادارے کے تمام انتظامات سے دستبردار ہوگئے، تو ان کی سابقہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے موجودہ فنڈ سے عطیہ دینا جائز نہیں۔
البتہ اگر ادارے کی انتظامیہ مخیر حضرات سے بات چیت کرکے اس مقصد کے لیے علیحدہ ایک خاص فنڈ قائم کرے، اور اسی فنڈ میں سے اپنے ادارے کے بیمار یا ضعیف و معمر اساتذہ کو وظیفہ جاری کرے، تو اس کی اجازت ہوگی
خیر الفتاویٰ میں ہے:
"بیمار یا معذور مدرس کو مدرسہ کے فنڈ سے وظیفہ یا پنشن دینا:
سوال:(1)ایک عالم دین ایک ہی مدرسہ میں ۲۷ سال تک قرآن پاک پڑھاتے رہے ہیں اس دوران وہ سخت بیمار ہو گئے۔ ان کا اس تنخواہ کے علاوہ کوئی بھی ذریعہ آمدن نہیں ہے، اور اہل علاقہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹھیک ہو کر یہاں پڑھائیں توان کی بیماری کے ایام میں کیا مدرسہ کے چندہ اور فنڈ والی رقم سے ان کا وظیفہ جاری رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟
(2) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک عالم یا قاری صاحب اپنی زندگی میں ایک ہی مدرسہ میں پڑھاتے رہے، اور پھر بڑھا پے یا کسی اور وجہ سے پڑھانے کے قابل نہ رہے، اور ان کا مستقل کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں، تو کیا انہیں بھی مدرسہ کی رقم سے وظیفہ جاری کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ قرآن سنت کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
الجواب:
(1) اس میں مدارس کے عرف پر عمل ہو گا ،مدارس میں جتنے دن کی سال میں رخصت ہوتی ہے، اتنےدن کی تنخواہ مدرس مذکور کو چندہ میں سے دینا جائز ہے " ان ایام سے زائد کی تنخواہ مدرسہ کے عام چندہ سے دینا درست نہیں۔ اس کے لئے ایک الگ فنڈ جمع کیا جائے اہل علاقہ و دیگر مخیر حضرات اس میں عطیات جمع کروا ئیں پھر اس سے اس مدرس کو تا صحت تنخواہ دی جائے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے۔
(2) ان کے لئے بھی الگ فنڈ جمع کیا جائے مدرسہ کے عام چندہ سے ان کو وظیفہ دینا جائز نہیں۔
(کتاب الوقف، احکام المدارس، ج:6، ص:637، ط:مکتبہ امدادیہ ملتان)
فتاوی شامی میں ہے:
"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به."
(کتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:366، ط: سعید)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"(سئل) في متولي وقف عزل وتولى على الوقف غيره ببراءة سلطانية وتقرير قاض وللوقف غلات وأجور فهل يكون قبض الغلات والأجور للمتولي المنصوب حالا دون المعزول وإذا لم يباشر المعزول وظيفة التولية لا يستحق معلوم التولية؟
(الجواب) : نعم."
(کتاب الوقف،الباب الثالث في أحكام النظار وأصحاب الوظائف، ج:1،ص:231،ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100258
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن