بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیمار اگر صحت کا زمانہ نہ پائے تو اس کے قضا روزوں کے فدیہ کا حکم


سوال

جو بیمار کسی بیماری میں مبتلا ہو اور اسی بیماری میں مر جائے اور صحت کا زمانہ اس نے نہ پایا ہو تو کیا اس پر روزے کا فدیہ ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس  کی وجہ سے  اس میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت ہی نہ ہو، جس کی وجہ سے وہ رمضان کے فرض روزے ادا نہیں کرسکا اور بعد وہ اسی بیماری میں انتقال کرگیا اور اس نے صحت کا زمانہ نہیں پایا تو اس پر ان روزوں کا فدیہ لازم نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فإن ماتوا فيه)  أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر. 

(قوله: فإن ماتوا إلخ) ظاهر في رجوعه إلى جميع ما تقدم حتى الحامل والمرضع وقضية  صنيع غيره من المتون اختصاص هذا الحكم بالمريض والمسافر. وقال في البحر: ولم أر من صرح بأن الحامل والمرضع كذلك، لكن يتناولهما عموم قوله في البدائع من شرائط القضاء القدرة على القضاء فعلى هذا إذا زال الخوف أياما لزمهما بقدره بل ولا خصوصية فإن كل من أفطر بعذر ومات قبل زواله لا يلزمه شيء فيدخل المكره والأقسام الثمانية. اهـ.ملخصا من الرحمتي (قوله: أي في ذلك العذر) على تقدير مضاف أي في مدته (قوله: لعدم إدراكهم إلخ) أي فلم يلزمهم القضاء ووجوب الوصية فرع لزوم القضاء وإنما تجب الوصية إذا كان له مال في شرح الملتقى ط (قوله: بقدر إدراكهم إلخ) ينبغي أن يستثنى الأيام المنهية لما سيأتي أن أداء الواجب لم يجز فيها قهستاني."

(2 / 423، كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144110201541

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں