بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بچلی چوری کرنے کا حکم / اسلام میں پڑوسیوں کی کیا اہمیت ہے؟


سوال

ہم  نہایت ادب سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں کچھ افراد نے غیر قانونی بجلی کے کنکشن یعنی "کنڈے" لگا رکھے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے اُن افراد کو بھی شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جو باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی طریقے سے بجلی حاصل نہیں کرتے۔

ہم آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس سنگین مسئلے پر ایک واضح شرعی فتویٰ جاری فرمایا جائے تاکہ عوام الناس کو اس عمل کی شرعی حیثیت معلوم ہو سکے اور وہ اس سے باز رہیں۔ مزید براں، برائے کرم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بھی وضاحت فرمائیں:

1. کیا غیر قانونی طور پر بجلی حاصل کرنا (کنڈا لگانا) شرعاً جائز ہے؟

2. کیا ایسے افراد جو بجلی چوری کرتے ہیں، اپنے اُن پڑوسیوں کے حقوق پامال نہیں کر رہے جو دیانت داری سے بل ادا کرتے ہیں؟

3. اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی کیا اہمیت ہے، اور اگر کسی کا عمل دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنے تو دین اسلام اس کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟

ہمیں امید ہے کہ آپ اس اہم سماجی اور شرعی مسئلے پر اپنی قیمتی رائے اور رہنمائی ضرور عطا فرمائیں گے تاکہ ہم اس فتویٰ کو عوامی سطح پر پہنچا کر اس غلط عمل کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

جواب

2۔1۔صورت مسئولہ میں  کنڈے اور چوری کی بجلی کا استعمال سراسر ناجائز اور حرام ہے، چوں کہ ایسے افراد جو بجلی چوری کرتے ہیں یہ صرف ایک فرد کی چوری نہیں بلکہ پوری قوم کی چوری ہے یعنی پوری قوم کے حقوق پامال کررہے ہوتے ہیں جو کہ  شرعاًجائز نہیں ۔ 

3۔نبی کریم ﷺنے اپنی تعلیمات و ہدایات میں ہمسائیگی اور پڑوس کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترام و رعایت کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ اس کو جزو ایمان اور داخلہٴ جنت کی شرط اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا معیار قرار دیا ہے،اور ان کو تکلیف پہنچانا ناجائز و حرام قرار دیا ہے، پڑوسیوں کے حقوق میں سے بعض حقوق جو حدیث نبوی ﷺ میں وارد ہیں کہ:

 اگر پڑوسی  بیمارہوجائے تواس کی بیمارپرسی کی جائے۔

2۔اگراس کاانتقال ہوجائے تواس کے جنازے کے ساتھ جائے۔

3۔اگروہ ادھارمانگے تواس کوقرض دے۔

4۔اگران كے پاس كپڑے نہیں ہے تو ان کوکپڑے پہنائے۔

5۔اگرکوئی خوشی اس کوحاصل ہوتومبارک باددے۔

6۔اگرکوئی مصیبت اس پرطاری ہوتواس کوتسلی دے۔

7۔اوراپنے مکان کواس کے مکان سے اونچانہ کرے تاکہ وہ ہواسے محروم نہ رہے ۔

8۔اوراپنے چولہے کے دھویں سے اس کوایذاء نہ پہنچائے (یعنی اس کااہتمام کروکہ ہانڈی کی مہک اس کے گھرتک نہ جائے)ہاں مگریہ کہ اس کے برتن میں کچھ ڈال دے۔(یعنی اچھی چیزکی خوشبوسے وہ للچائے نہیں اسے بھی کچھ دے دو، تاکہ اسے اپنی ناداری اور غربت پرافسوس نہ ہو)۔

 لہذا اسلام نے پڑوسی کو تکلیف پہنچانےسے سختی سے منع فرمایا ہے، چناں چہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: "وہ ایمان والا نہیں، واللہ (اللہ کی قسم)! وہ ایمان والا نہیں، واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔" عرض کیا گیا : اللہ کے رسول! کون؟ آپﷺ نے فرمایا: "جس کا ہمسایہ اس کی اذیتوں سے محفوظ نہ ہو"،  

بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا ‌عاصم بن علي: حدثنا ‌ابن أبي ذئب، عن ‌سعيد، عن ‌أبي شريح أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «والله لا يؤمن والله لا يؤمن، والله لا يؤمن. قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: الذي لا يأمن جاره ‌بوايقه» تابعه شبابة وأسد بن موسى. وقال حميد بن الأسود وعثمان بن عمر وأبو بكر بن عياش وشعيب بن إسحاق عن ابن أبي ذئب عن المقبري عن أبي هريرة"

(‌‌باب إثم من لا يأمن جاره بوايقه {يوبقهن} يهلكهن {موبقا} مهلكا، ج: 8، ص: 10، ط: سلطانیة)

سنن ابی داود میں ہے:

"حدثنا ‌الربيع بن نافع أبو توبة، نا ‌سليمان بن حيان ، عن ‌محمد بن عجلان ، عن ‌أبيه ، عن ‌أبي هريرة قال: «جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم ‌يشكو ‌جاره قال: اذهب فاصبر فأتاه مرتين أو ثلاثا، فقال: اذهب فاطرح متاعك في الطريق فطرح متاعه في الطريق، فجعل الناس يسألونه، فيخبرهم خبره، فجعل الناس يلعنونه، فعل الله به، وفعل، وفعل، فجاء إليه ‌جاره، فقال له: ارجع لا ترى مني شيئا تكرهه.»"

(باب في حق الجوار، ج: 4، ص: 504، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي- الهند)

المفاتیح فی شرح المصابیح میں ہے:

"وقال: "والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن"، قيل: من، يا رسول الله؟ قال: "الذي لا يأمن ‌جاره ‌بوائقه".
قوله: "لا يأمن ‌جاره ‌بوائقه"، (البوائق): جمع بائقة وهي الداهية، والمراد بها ها هنا الضرر والمشقة."

(باب الشفقة والرحمة على الخلق، ج: 5، ص: 219،  ط: دار النوادر)

مجمع الزوائد میں ہے:

"وعن معاوية بن حيدة قال: قلت: يا رسول الله، ما ‌حق ‌جاري علي؟؟ قال: " «إن مرض عدته، وإن مات شيعته، وإن استقرضك أقرضته، وإن أعوز سترته، وإن أصابه خير هنأته، وإن أصابته مصيبة عزيته، ولا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح، ولا تؤذه بريح قدرك إلا أن تغرف له منها» "، رواه الطبراني، وفيه أبو بكر الهذلي، وهو ضعيف"

(باب حق الجار والوصية بالجار، ج: 8، ص: 165، ط: مکتبة القدسي۔ القاهره)

امدادالفتاوی میں  ہے:

"اسلام میں جس طرح شخصی املاک کی چوری ناجائز ہے، اسی طرح گورنمنٹ کی املاک بجلی وغیرہ کی چوری بھی ناجائز ہے ،اس لیے  جس قدر بجلی کی چوری کی جائے گی، اس کا ضمان واجب ہوگا۔"

(امدادالفتاوی،ج:4،ص:147، سوال: 18، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:

"جس طرح شخصی املاک  کی چوری گناہ ہے،اسی طرح قومی املاک میں چوری بھی گناہ ہے،بلکہ بعض اعتبارات سے یہ چوری زیادہ سنگین ہے،کیونکہ ایک آدمی سے تو معاف کرانا بھی ممکن ہےاور پوری قوم سے معاف کرانے کی کوئی صورت ہی نہیں"۔

(معاملات،ج:7،ص:284،ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101163

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں