
مریض کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ صرف تکلیف کو محسوس کرتا ہے؛ یعنی کبھی کبھار ہاتھ اٹھا لیتا ہے یا فریاد کر لیتا ہے، لیکن بول نہیں سکتا، بات سمجھ نہیں رہا، کھا پی نہیں رہا، اور اسی حالت میں چھ سے زیادہ نمازیں قضا ہو گئی ہیں۔اس حالت میں فوت شدہ نمازوں کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگرکوئی شخص ایسی بے ہوشی میں مبتلا ہو جائے کہ اسے نماز کے بارے میں اطلاع دینے کے باوجود وہ مطلع نہ ہو سکے، اور مسلسل چھ نمازیں مکمل بے ہوشی میں گزر جائیں،تو ایسی صورت میں وہ نمازیں مبتلا بہ کے ذمہ معاف ہو جاتی ہیں، ہوش میں آنے کے بعد ان نمازوں کی قضا واجب نہیں ہوتی۔ لہذا صورت مسئولہ مذکورہ شخص اگر بیماری کے ایام میں ہوش وحواس میں نہیں تھا، نمازوں کے اوقات کا علم نہیں تھا کسی چیز کی پہچان نہیں تھی تو ایسی کیفیت میں چھ سے زیادہ نمازیں جو قضا ہوگئیں وہ نمازیں معاف ہیں، اس کی قضا یا فدیہ لازم نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و من أغمي عليه خمس صلوات قضى، و لو أكثر لايقضي، و الجنون كالإغماء و هو الصحيح، ثم الكثرة تعتبر من حيث الأوقات عند محمد -رحمه الله تعالى- وهو الأصح، هذا إذا دام الإغماء و لم يفق في المدة أما إذا كان يفيق ينظر فإن كان لإفاقته وقت معلوم مثل أن يخف عنه المرض عند الصبح مثلًا فيفيق قليلًا ثم يعاوده فيغمى عليه تعتبر هذه الإفاقة فيبطل ما قبلها من حكم الإغماء إذا كان أقل من يوم وليلة، وإن لم يكن لإفاقته وقت معلوم لكنه يفيق بغتةً فيتكلم بكلام الأصحاء، ثمّ يغمى عليه فلا عبرة بهذه الإفاقة، كذا في التبيين. ولو أغمي عليه بفزع من سبع أو آدمي أكثر من يوم وليلة يسقط عنه القضاء بالإجماع."
(کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاة المريض، ج: 1، صفحہ:137، ط: دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101062
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن