
میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، ورثاء میں تین بیٹے، اور پانچ بیٹیاں ہیں، مرحوم والد کی بیوہ اور والدین کا انتقال پہلے ہوچکا تھا۔ترکہ میں والد صاحب نے ایک مکان چھوڑا، جس میں ہم تین بھائی رہتے ہیں، اور میری پانچوں بہنیں شادی شدہ ہیں۔
اب میں اس مکان میں اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہوں، لیکن میرا بڑا بھائی کہتا ہے کہ ہمارے پاس بہنوں کو حصہ دینے کی گنجائش نہیں ہے، میرے والد کا انتقال 2022 میں ہوا، اور اب تک میراث کی تقسیم نہیں ہوئی۔
اب سوال یہ ہے کہ بلاعذر میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنا، اور بہنوں کو ان کا حصہ دینے میں ٹال مٹول سے کام لینے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس بارے میں قرآن و سنت کی کیا وعیدات ہیں؟
جاننا چاہیئے کہ کسی وارث کا تقسیم سے پہلے یا بعد میں مال ِ میراث پر ناحق قبضہ کرنا، اور ورثاء کو ان کے شرعی حصوں سے محروم کرنا جائز نہیں ہے۔ مرنے والے کی وراثت کو اس کے ورثاء میں شرعی طریقے کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے، اور بلاوجہ اس میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔کسی کی ایک بالشت زمین پر بھی ناحق قبضہ کرنے ولے، یا وارث کو اس کے حصئہ میراث سے محروم کرنے والے کے لیے احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔چنانچہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی "، ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔ "
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی کا میراث کی تقسیم میں بلاوجہ تاخیر کرنا، اور بہنوں کے حصۂ میراث کو روکنا ناجائز اور حرام ہے، ایسا کرنے سے بھائی گناہ گار ہوں گے، اور شرعاً ظالم شمار ہوں گے، بہنوں کو دینا میں ان کا حقِ میراث دینا لازم ہے، ورنہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دینا ہوگا، جوکہ آسان نہ ہوگا۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
" عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين. "
" وفي شرح السنة: معنى التطويق أن يخسف الله به الأرض فتصير البقعة المغصوبة منها في عنقه كالطوق، وقيل: هو أن يطوق حملها يوم القيامة أي: يكلف، فيكون من طوق التكليف لا من طوق التقليد. "
( باب الغصب والعاریة، ج:5، ص:1969، ط:دار الفکر )
وفیہ ایضا:
" وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه. "
" (يوم القيامة) قال الطيبي رحمه الله: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها اه. "
( باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:5، ص:2040، ط:دار الفكر )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100838
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن