بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کا اپنے بھائیوں سے مشترکہ گھرمیں اپنے حصہ کے کرایہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ہمارےوالدصاحب کا انتقال ہوا،وہ اپنی وراثت میں تین منزلہ مکان اوردودکانیں چھوڑکرگئےہیں ،ایک منزل میں کرایہ داراوردومنزلوں میں بھائی رہائش پذیرہیں ،اب سوال یہ ہےکہ کیا بہنیں بھائیوں سےان کےحصہ کاجس میں بھائی رہائش پذیرہیں کرایہ طلب کرسکتی ہیں ؟اورجورہےہیں اس کرایہ کابھی مطالبہ کرسکتی ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر پہلے سے کوئی کرایہ طے نہیں کیا گیا تھا، تو ایسی صورت میں ان بھائیوں سے  جو اب تک اس مکان میں رہائش پذیر رہے ہیں — بہنوں کو گزشتہ عرصہ  کا کرایہ طلب کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
البتہ  آئندہ کے لیے اگر بہنوں کے حصے کے عوض کرایہ طے کر لیا جائے، تو اس کے بعد ان کا کرایہ کا مطالبہ شرعاً درست ہوگا۔اسی طرح جس مکان میں کرایہ داررہتےہیں اورجوجگہ آفس کےلئےکرایہ پردی ہےان سب میں تمام ورثاءبہنوں سمیت اپنےاپنےحصوں کےبقدرشریک ہیں۔

مجلۃ الاحكام العدليۃ میں ہے:

"(المادة 1075)  أما إذا سكن أحد صاحبي الدار المشتركة فيها بلا إذن الآخر مدة فيكون قد سكن في ملكه فلذلك لا يلزمه إعطاء أجرة لأجل حصة شريكه واذا احترقت الدار قضاء فلا يلزمه ضمانها."

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، ‌‌الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ص: 207، ط: نور محمد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لو ‌واحد ‌من ‌الشريكين ‌سكن … في الدار مدة مضت من الزمنفليس للشريك أن يطالبه … بأجرة السكنى."

(‌‌كتاب الوقف، ج: 4، ص: 337، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144612100978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں