
1) میرے والد صاحب کا ایک سال قبل انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہیں۔ بیٹی کی شادی کے وقت والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ اس کے لیے ایک گھر خرید دو، یہ اس کا حصہ ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے لیے گھر خرید دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا والد صاحب کی بقیہ جائیداد میں اس بہن کا حصہ ہوگا یا نہیں؟
2) والد صاحب کی حیات میں ہی میں نے 2004ء میں درزی کا کام شروع کیا۔ یہ کام میرا ذاتی تھا۔ اس وقت والد صاحب اور بڑے بھائی ملازمت کرتے تھے۔ میں وقتاً فوقتاً اپنے بھائیوں کو اس کام میں ساتھ لگاتا رہا، جس سے میرا کام مزید بہتر ہوگیا۔ بعد ازاں میں نے کپڑوں کا کاروبار بھی شروع کر دیا۔
گھر کے تمام اخراجات اور معاملات بھی میرے سپرد تھے۔ میرے بھائی اس کام میں شریک نہیں تھے بلکہ صرف بطورتعاون ساتھ ہوتے تھے۔ میں اس کام کی آمدنی سے گھر والوں پر خرچ کرتا تھا، بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کرتا تھا، حتیٰ کہ بڑے بھائی کے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی شادیاں بھی اسی آمدنی سے کیں۔ ہر ہفتے میں بھائیوں کو جیب خرچ بھی دیتا تھا۔ہماری جائیداد کا تقریباً 50 فیصد حصہ اسی دکان کی آمدنی سے بنا۔ تمام معاملات اب تک خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں۔ والد صاحب کی زندگی میں ہی میرا چھوٹا بھائی الگ ہوگیا تھا، تو والد صاحب نے اسے دو کمروں کا مکان بنا کر دے دیا اور مجھے ہدایت کی کہ آئندہ اگر وہ میرے ساتھ کام کرے تو اسے اس کے حساب سے مزدوری دی جائے۔
اب سوال یہ ہےکہ میں اپنےمعاملات الگ کروں،اور اپنے بھائیوں کو الگ الگ کردوں،اگر وہ میرے ساتھ کام کریں تو انہیں مزدوری کے حساب سے دوں یا منافع میں حصہ (فیصد) کے حساب سے؟
کپڑوں کا جو کاروبار ہے، وہ مکمل طور پر میرا ہے۔ میرے بھائی نہ یہ کام جانتے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔ اس کام میں میرے ساتھ میرا بھتیجا سیلز مین کے طور پر کام کرتا ہے۔اس کاروبار میں میرے ذمہ 40 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، تو کیا یہ قرض تمام بھائیوں پر تقسیم ہوگا یا صرف میرے ذمہ ہوگا؟
1) صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو گھر خرید کر اپنی بہن کے حوالے کیا، اگر والد صاحب نے یہ گھر اس شرط پر دیا تھا کہ یہ اس کا حصہ شمار ہوگا اور بعد میں ترکہ سے اسے میراث نہیں دی جائے گی، اور بہن نے بھی گھر لیتے وقت اس بات کو قبول کرلیا تھا کہ یہی اس کا حصۂ میراث ہے اور وہ بعد میں مزید حصہ طلب نہیں کرے گی تو ایسی صورت میں اسے ترکہ میں سے مزید حصہ نہیں دیا جائے گا۔
البتہ اگر بہن نے گھر لیتے وقت اس بات کو قبول نہ کیا ہو کہ بعد میں اسے میراث میں حصہ نہیں ملے گا، تو ایسی صورت میں اگر وہ گھر اس کے ترکہ کے حصے کے برابر ہے، پھر مزید کچھ نہیں ملے گا،اور اگر اس سے کم تو زائد حصہ ترکہ میں سےلینے کی حق دار ہوگی۔
2) سائل نے جو ذاتی کاروبار شروع کیا تھا اور بھائی اس میں صرف بطورِ تعاون کام کرتے تھے، تو یہ پورا کاروبار سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگا، اور دیگر بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔البتہ اگر بھائی سائل کے ساتھ کام کریں تو انہیں ملازم کے حساب سے اجرت دی جائے ، کیونکہ یہ کاروبار سائل کی ذاتی ملکیت ہے۔نیز سائل کے ذمہ جو چالیس لاکھ روپے واجب الادا ہیں، وہ صرف سائل کے ذمہ ہوں گے، دیگر بھائیوں پر تقسیم نہیں ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر."
(کتاب الوصایا، ج: 6، ص: 655، ط: دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100691
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن