
ایک خاتون کا انتقال ہوا۔ ان کے والدین، شوہر اور اولاد میں سے کوئی بھی حیات نہیں ہے۔ البتہ ان کی ایک ہی بہن زندہ ہے، اور اس کے چھ بچے ہیں، جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مرحومہ کا ایک بھائی بھی تھا، جن کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہو چکا تھا، اور اب ان کی دو بیٹیاں موجود ہیں۔
مزید یہ کہ مرحومہ کے نہ تو کوئی چچا زندہ ہیں اور نہ ہی ان کی اولاد میں سے کوئی موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ مرحومہ کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟ اور بہن کی موجودگی میں بھانجوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں میں سے کون کون وارث ہوں گے؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے) بعد باقی کل ترکہ اس کی بہن کو ملے گا، جب کہ بھانجوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں کو بطورِ حصّہ میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا؛ کیوں کہ بھانجے، بھانجیاں اور بھتیجیاں ذوی الارحام میں سے ہیں، اور ذوی الارحام کے وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی موجود نہ ہو، جبکہ زیرِ نظر مسئلے میں چونکہ بہن (ذوی الفروض میں سے) موجود ہے، اس لیے وہ اپنے آدھے حصّے کے بعد باقی آدھے کی بھی حق دار ہو کر کل ترکہ کی مستحق ہوگی۔
سراجی فی المیراث میں ہے:
"فيبدأ بأصحاب الفرائض، وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم بالعصبات...... ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام."
(ترتيب تقسيم التركة، ص:16، ط:مكتبة البشرى كراتشي)
وفيه أيضاً:
"ذو الرحم: هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة.... وذوو الأرحام أصناف أربعة: الصنف الأول: ينتمي إلى الميت..... والصنف الثاني: ينتمي إليهم الميت...... والصنف الثالث: ينتمي إلى أبوي الميت: وهم أولاد الأخوات وبنات الإخوة وبنو الإخوة لأم."
(باب ذوي الأرحام، ص:166، ط:مكتبة البشرى كراتشي)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وإنما يرث ذوو الأرحام إذا لم يكن أحد من أصحاب الفرائض ممن يرد عليه ولم يكن عصبة وأجمعوا على أن ذوي الأرحام لا يحجبون بالزوج والزوجة أي يرثون معهما فيعطى للزوج والزوجة نصيبهما ثم يقسم الباقي بين ذوي الأرحام، كما لو انفردوا."
(كتاب الفرائض، الباب العاشر في ذوي الأرحام، ج:6، ص:459، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
مفید الوارثین میں ہے:
”ذوی الارحام وہ وارث ہیں کہ جب ذوی الفروض بھی موجود نہ ہو اور عصبہ بھی کوئی نہ ہو، تو ان کو میراث پہنچے؛ کیوں کہ اگر عصبہ موجود ہے تو ذوی الفروض سے بچا ہوا وہ لے گا، اور عصبہ کوئی نہیں تو ذوی الفروض سے جو کچھ باقی رہے گا وہ دوبارہ حصّۂ رسد انہیں پر تقسیم کردیا جائے گا۔“
(چھٹا باب: ذوی الارحام کا بیان، ص:153، ط:ادارہ اسلامیات لاہور)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101458
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن