بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کا اپنا حصہ بھائی کو ہبہ کرنے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنے کا حکم


سوال

میرے والد کی بہن نے وراثت کی زمین کا حصہ اپنے بھائیوں کے نام کر دیا تھا، جس کی انہوں نے جا کر رجسٹری بھی کر دی، اور زمین کاغذات میں بھی باضابطہ طور پر بھائیوں کے نام منتقل ہو گئی۔

اب میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، اور وہ (پھوپھی) پندرہ سال بعد دوبارہ وہ زمین واپس مانگ رہی ہیں، جس پر ہم نے بہت خرچ اور سرمایہ کاری کی ہے، کیا اب ان کا دوبارہ زمین مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد یا چچاؤں کو آپ کی پھوپھی (یعنی والد کی بہن) نے اپنا وراثتی حصہ جو اسے والد یا والدہ کی طرف سے ملا تھا ،تقسیم کے بعد اپنی خوشی اور رضامندی سے دیا تھا، اور آپ کے والد نے اس زمین پر تعمیرات وغیرہ کر لی تھیں، تو ایسی صورت میں آپ کی پھوپھی کے لیے دوبارہ مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ زمین آپ کے والد یا چچاؤں کی ملکیت شمار ہوکر ان کے انتقال کے بعد ان کی وراثت میں تقسیم کی جائے گی۔

البتہ اگر پھوپھی نے وہ حصہ رضامندی سے نہیں دیا تھا، یا تقسیم سے پہلے ہی اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا تھا (یعنی   وہ حصہ  باضابطہ   پھوپھی کے قبضے میں  نہیں آیا تھا)تو شرعاً اس صورت میں ان کا اپنا میراث کا حصہ چھوڑدینا درست نہیں تھا، اس صورت میں ان کا حق ختم نہیں ہوا،لہذا وہ اپنی زمین واپس لینے کا حق رکھتی ہیں ۔

لہٰذا مذکورہ دونوں صورتوں میں سے جو بھی حقیقت میں پائی جائے، اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله (‌والقاف ‌القرابة فلو وهب لذي رحم محرم منه لا يرجع فيها) لقوله عليه الصلاة والسلام «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم لم يرجع فيها» ولأن المقصود منها صلة الرحم وقد حصل وفي الرجوع قطيعة الرحم فلا يرجع فيها."

(كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، 5/ 101، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

الأشباه والنظائرمیں ہے:

"قال الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك."

( ‌‌ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبلهص، 272، ط: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"معنى القبض هو التمكين، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة."

(کتاب البیوع، باب بیان رکن البیع، فصل فی الشرط اللذی یرجع الی المعقود علیہ، 5/ 148، ط: دارالکتب العلمیۃ)

موسوعۃ الفقہ الاسلامی میں ہے:

"أما ملك الوارث لما فضل من التركة بعد حاجة المورث من التجهيز والدفن وسداد الديون وتنفيذ الوصايا - فأنه يثبت للوارث جبرا عليه وتدخل أموال الميت والحقوق القابلة للانتقال فى ملك الوارث من غير توقف على قبوله ولا يرتد برده. وهذا الملك لا يسقط‍ بالاسقاط‍ مطلقا بالنسبة للاعيان. ويسقط‍ بالاسقاط‍ بالأبراء بالنسبة للديون التى للمورث على الغير. جاء فى الأشباه والنظائر لابن نجيم : لو قال الوارث تركت حقى لم يبطل حقه اذ الملك لا يبطل بالترك.
وجاء فى تنقيح الفتاوى الحامدية لابن عابدين : اذا أشهد أحد الورثة بأنه ترك حقه من الأرث وأسقطه فهذا الحق لا يسقط‍ بالاسقاط‍ وله المطالبة بحقه من الأرث اذ هو جبرى لا يسقط‍ بالاسقاط‍.
وفى الفتاوى الخيرية: حق الارث لا يقبل الاسقاط‍. وفی تكملة رد المحتار :یبطل اقرار انسان بعدد من السهام لوارث أزيد من الفريضة الشرعية لكونه محالا شرعا.أى مخالف للمشروع ومغير له فيكون باطلا .. ومثل ذلك فى الفتاوى الخيرية  من كتاب الاقرار."

(اسقاط، مایعتبر اسقاط تغییرا للمشروع، 8/ 322، ط: وزارۃ الاوقاف، الكويت)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101173

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں