بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عقیدہ حیات النبی قطعی ہے یا ظنی؟


سوال

عقیدہ حیات النبی قطعی ہے یا ظنی؟  اگر ظنی ہے تو عقائد قیاس سے تو ثابت نہیں ہوا کرتے ؟

جواب

عقیدہ حیات النبی اجماعی عقیدہ  ہے، (یعنی اجماع سے ثابت ہے)  اور اجماع دلیل قطعی ہے۔

دلائل ملاحظہ ہوں:

’’حیات انبیاء متفق علیہ است، ہیچ کس را دروے خلافے نیست‘‘۔ (اشعۃ اللمعات 1/613 ط: لکھنو)

القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع - (1 / 172):

’’ونحن نؤمن ونصدق بأنه صلى الله عليه وسلم حي يرزق في قبره، و أن جسده الشريف لاتأكله الأرض، والإجماع على هذا‘‘.

الحاوي للفتاوي ـ للسيوطى - (2 / 139):

’’فأقول حياة النبي صلى الله عليه وسلّم في قبره هو وسائر الأنبياء معلومة عندنا علماً قطعياً لما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت [ به ]‘‘. فقط و الله أعلم 


فتوی نمبر : 144107200221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں