بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے ناجائز تعلقات کا شرعی حکم


سوال

ایک شخص کی شادی کو 19 سال ہو چکے ہیں۔ اس کی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ شادی کے تقریباً 14 سال بعد اس کی بیوی کو موبائل استعمال کرنے کا بہت شوق ہو گیا، جس کی وجہ سے اس کے غیر مردوں سے تعلقات بن گئے۔ ابتدا ء میں وہ صرف فون پر بات کرتی تھی، شوہر نے پکڑ لیا تو اس نے معافی مانگی، شوہر نے معاف کر دیا۔اس کے بعد اس نے غیر مردوں سے ملاقاتیں بھی شروع کر دیں۔ شوہر نے دوبارہ پکڑا تو اس نے پھر معافی مانگی، لیکن اس کے باوجود وہ دوبارہ غیر مردوں سے ملاقاتیں کرتی رہی۔اب ایسی صورت میں شرعی طور پر شوہر کے لیے کیا حکم ہے، اور اسے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ بیوی غیر مردوں سے ناجائز تعلقات، فون پر گفتگو اور ملاقاتوں جیسے غیر شرعی افعال میں مبتلا ہے، تو یہ شرعاً نہایت سنگین گناہ، ازدواجی امانت میں خیانت ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ وہ صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے، اپنے گزشتہ اعمال پر ندامت کا اظہار کرے، آئندہ کے لیے غیر مردوں سے ہر قسم کے ناجائز تعلقات مکمل طور پر ختم کر دے اور اپنی اصلاح کی بھرپور کوشش کرے۔

اگر مذکورہ عورت اخلاص کے ساتھ توبہ کر لے، تو اسے موقع دیا جائے،البتہ اگر بار بار نصیحت، تنبیہ اور معافی کے باوجود بھی وہ ان افعال سے باز نہ آئے، اور اس کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے اپنی عزت، دین اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کے پیشِ نظر اس سے علیحدگی اختیار کرنا جائز ہے۔ تاہم واجب نہیں، اگر طلاق دینے کی نوبت آجائے، تو سنت کے مطابق صرف ایک طلاق دی جائے، اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو اس کے ایسے پاکی کے زمانے میں ایک طلاق دی جائے جس میں اس سے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا گیا ہو۔

اگر شوہر طلاق کے بعد عدت کے دوران رجوع کر لے، تو نکاح برقرار رہے گا، اور اگر عدت گزر جائے اور رجوع نہ کرے، تو نکاح ختم ہو جائے گا، جس کے بعد عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی شرعاً حق دار ہوگی۔

نیز اس صورت میں شوہر کو چاہیے کہ ایک طلاق سے زائد طلاق دینے سے اجتناب کرے، کیونکہ بیک وقت یا بلا ضرورت متعدد طلاقیں دینا خلافِ سنت اور باعثِ ندامت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة.(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال - صلى الله عليه وسلم - لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها» اهـ ط."

( كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، فرع: يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس، ج: 6، ص: 427، ط: دار الفكر )

نفع المفتی و السائل للکنوی  میں ہے:

"الاستفسار: هل يجب علي الزوج تطليق الزوجة الفاجرة التي لا تصوم، ولا تصلي، ولا تنزجر بزجره؟

الاستبشار: إذا اعتادت الزوجة الفسق، علیه الأمر بالمعروف والنهي عن المنکر، والضرب فیما یجوز فیه؛ فإن لم تنزجر لایجب التطلیق علیه؛ لأن الزوج قد أدی حقه والإثم علیها، كذا في خزانة الروايات عن القنية. و صرح به في الدر المختار أيضا قبيل كتاب إحياء الموات.هذا ما اقتضاه الشرع، وأما مقتضی غایة التقویٰ فهو أن یطلقها."

(ما يتعلق باطاعة الزوجات للازواج وحقوقهم عليهن، و حقوقهن عليهم، ص:410، 411، ط: دار ابن حزم) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(أما) الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها."

(كتاب الطلاق، الباب الأول في تفسيره وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه وفيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، الطلاق السني،ج: 1، ص: 348، ط: دارالفكر)

وفيه أيضا:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

( كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج: 1، ص: 470، ط: دار الفكر)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك."

( كتاب الطلاق، باب الرجعة،ج:6، ص:19، ط: دار المعرفة - بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100444

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں