بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی اجازت کے بغیر اس کا مال فروخت کرنے کا شرعی حکم


سوال

اگر شوہر بیوی کی اجازت کے بغیر اُس کاسونا فروخت کر دے تو شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟اور اگر اب اس کی ادائیگی کے وقت شوہر نقد رقم دینا چاہتا ہے جبکہ بیوی کو وہی چیز (سونا) واپس چاہیے، تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟

جواب

بیوی کا مال خواہ وہ سونا ہو یا کوئی اور چیز، مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا ہے، اور شوہر کو اس میں کسی قسم کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ بیوی اپنی خوشی اور رضامندی سے اجازت نہ دے۔ 

لہٰذا اگر شوہر نے بیوی کی اجازت کے بغیر اس کا سونا فروخت کر دیا تو یہ عمل شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، بلکہ یہ غصب کے حکم میں داخل ہے۔اس طرح کی بیع شرعاً موقوف ہوتی ہے، یعنی یہ بیوی کی اجازت پر موقوف رہتی ہے، اگر بیوی اس کو اجازت دے دے تو بیع درست ہو جائے گی، اور اگر اجازت نہ دے تو یہ بیع باطل شمار ہوگی۔

ایسی صورت میں شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کا حق واپس کرے۔ اگر وہی سونا بعینہٖ موجود ہو یا بازار میں اسی جیسا سونا دستیاب ہو تو شوہر پر واجب ہے کہ سونا ہی واپس کرے، کیونکہ اصل چیز کی واپسی ممکن ہے۔ اگر سونا موجود نہ ہو یا بعینہٖ واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر اس کی موجودہ قیمت ادا کرنا لازم ہوگی۔ لہٰذا اگر بیوی سونا ہی واپس چاہتی ہے اور یہ ممکن بھی ہے تو شوہر کے لیے  نقد رقم دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ سونا ہی دینا ضروری ہوگا، اور قیمت دینے کی اجازت صرف اسی وقت ہوگی جب سونا واپس کرنا ممکن نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج: 6، ص: 200، ط: سعيد)

و فيه أيضا:

"شرائط النفاذ فإثنان: الملك أو الولاية، وأن لا يكون في البيع حق لغير البائع، فلم ينفذ بيع الفضولي."

( كتاب البيوع، مطلب: شرائط البيع أنواع أربعة، ج: 4، ص: 505، ط: سعيد)

و فيه أيضا: 

"(كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج أو إسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا)."

( كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، فصل في الفضولي،ج:5، ص: 106، ط: سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه وإن فعل كان ضامنا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 96، ج: 1، ص: 51، ط: رشيدية)

وفيه أيضا:

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي وإن أخذ ولو على ظن أنه ملكه وجب عليه رده عينا إن كان قائما وإلا فيضمن قيمته إن كان قيميا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 97، ج: 1، ص: 51، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100235

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں