
میرا نکاح 2024 میں ہوا، ہم دونوں کو شریعت کا زیادہ علم نہیں تھا، بس کچھ بنیادی باتیں معلوم تھیں۔ 2024 میں مارچ کے مہینے میں ہمارا فون پر جھگڑا ہوا جو بڑھ گیا، اور میں نے اپنی بیوی کو میسج میں لکھا: ”تم مجھ سے آزاد ہو، اب جو چاہو کرو“،ہمارا جھگڑا جاری رہا اور اسی دوران اُس نے مجھے کہا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ، تو میں نے جواب میں کہا: ”دیکھنا، میں تم سے دور ہی رہوں گا“۔
جب یہ ہوا تو میرے ذہن میں ”طلاق“ کا لفظ نہیں تھا، لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ اب میں اس کے ساتھ مزید معاملہ نہ رکھوں (بری الذمہ ہو جاؤں)۔ اس جھگڑے کے بعدچوں کہ میں ایک سال کے لیے بیرونِ ملک تھا، ہم علیحدہ رہے، لیکن ہم نے اسے طلاق نہیں سمجھا۔ ہم فون پر شوہر اور بیوی کی طرح بات کرتے رہے، مگر کئی بار جھگڑے ہوئے۔ ان جھگڑوں میں میری بیوی نے کئی مرتبہ طلاق مانگی، لیکن میں نے کبھی لفظ ”طلاق“ استعمال نہیں کیا۔ البتہ کئی بار میں نے کہا: ”جا کر کسی اور مرد کے ساتھ رہو“، یا ”میں تمہارے والد سے بات کروں گا“، یا ”میں اس سب سے تنگ آ گیا ہوں“، اور میری نیت یہ ہوتی تھی کہ میں اس مشکل تعلق سے آزاد ہونا چاہتا ہوں، لیکن میرے ذہن میں لفظ ”طلاق“ نہیں تھا۔
حال ہی میں، ستمبر میں ہونے والے جھگڑے میں میں نے ”طلاق“ کا لفظ تین بار کہا، ہم دونوں یہ جانتے ہوئے کہ اس سے رشتہ ختم ہو جاتا ہے، اسلامی مواد پڑھنے لگے۔ میں نے کچھ تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ اگر کنایہ (اشارے والے) یا صریح (واضح) الفاظ سے طلاقِ بائن واقع ہو جائے، جیسے”تم مجھ سے آزاد ہو، جو چاہو کرو“جو میں نے مارچ 2024 میں کہا تھا، تو ایسے الفاظ طلاقِ بائن کا سبب بنتے ہیں، اور اس کے بعد ستمبر 2025 میں دی گئی طلاقیں عدت کے بعد غیر معتبر ہوں گی۔
میرا سوال یہ ہے کہ: میرے یہ الفاظ ”تم مجھ سے آزاد ہو، جو چاہو کرو“، جبکہ میری نیت یہ تھی کہ میں اس سے آزاد ہو جاؤں، لیکن میرے ذہن میں ”طلاق“ کا لفظ واضح طور پر نہیں تھا ، کیا یہ طلاقِ بائن شمار ہوں گے؟
اور اگر ہاں، تو کیا بعد میں 2025 میں دی گئی تین طلاقیں درست ہوں گی یا غیر معتبر؟ یا پھر کیا طلاقِ مغلّظہ (یعنی تین حتمی طلاقیں) ہو چکی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب مارچ 2024ء میں دورانِ لڑائی اپنی بیوی کو یہ کہا کہ ”تم مجھ سے آزاد ہو، اب جو چاہو کرو“ اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی تھی، اورنکاح ٹوٹ چکاتھا،اس کےبعدسائل کا اپنی بیوی کے ساتھ بغیر تجدید نکاح میاں بیوی کی طرح آپس میں باتیں کرنااورتعلقات رکھنا جائز نہیں تھا،نیز اس کے بعد ستمبر 2025 میں سائل نےجوطلاق کالفظ تین بارکہااس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،سائل اگر بیوی کے ساتھ دوبارہ رہنا چاہتا ہے تو دونوں کی رضامندی سے تجدید نکاح نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں ضروری ہے، اس کے بغیر میاں بیوی کے حیثیت کے ساتھ ایک ساتھ رہنا جائز نہیں۔تجدیدنکاح کی صورت میں آئندہ کےلئےسائل کو دوطلاقوں کاحق ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الطلاق..(وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير."
(كتاب الطلاق، الباب الأول، ج: 1، ص: 348، ط: دارالفکر)
وفيه ايضاً:
”إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها....وتنقطع الرجعة إن حكم بخروجها من الحيضة الثالثة إن كانت حرة.“
(كتاب الطلاق، الباب السادس، ج: 1، ص: 470۔471، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102184
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن