بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیک وقت تین طلاقیں


سوال

میں نے اپنی بیوی کو تین دفعہ ان الفاظ "میں  نے طلاق دے دی "کے ساتھ طلاق دی ، اس نے عدت گزارلی ہے، اور اب و ہ دوسری جگہ شادی کرنا چاہتی ہے اس کا نکاح کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  نے جب بیوی  کو تین دفعہ  یہ جملہ  کہا ہے کہ: "میں نے  طلاق دے  دی" تو اس سے اس کی  بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، نکاح ختم ہوچکا ہے، بیوی سائل  پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب بیوی سے  رجوع کرنے  کی یا اس کے  ساتھ نکاح کی شرعًا اجازت نہیں ہے،لھذا اب  جب کہ مطلقہ بیوی اپنی  عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری  آتی ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ) پوری کرچکی ہے تو اس کا  کسی اور جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے  ۔

بدائع  الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: رشیدیه)

فقط واللہ علم


فتویٰ نمبر : 144712100484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں