
میرے شوہر نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے :"تہنو(آپ) کو طلاق ،طلاق ،طلاق " تو کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر واقعۃً سائلہ کو ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ :"تہنو(آپ) کو طلاق ،طلاق ،طلاق "تو شوہر کے ان الفاظ سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو گیاہے، سائلہ اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے، اب شوہر کے لیے رجوع یا تجدید نکاح کی گنجائش نہیں ہے ۔
سائلہ اپنی عدت (پوری تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها".
( کتاب الطلاق، الباب السادس،1/535، ط: رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101836
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن