بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیعت کا مقام، صحبتِ صالح کی ضرورت اور اصلاحِ نفس کا شرعی طریقہ


سوال

1۔کونوامع الصادقین  کاحکم وجوبی ہےیانہیں؟

2۔کیااصلاح النفس کےلیےصحبت اختیارکرنالازمی ہے؟نیزموجودہ دورمیں اصلاح نفس کی حیثیت کیاہے؟

3۔کیااصلاح نفس کاایک ہی طریقہ ہےتصوف یااصلاح نفس کےدوسرےطریقےبھی ہیں ؟بعض حضرات تواصلاح کواسی میں منحصرمانتےہیں۔

4۔کیابیعت اورصحبت بزرگ یاشیخ کامل دنوں ایک ہی چیزیں ہیں یاالگ الگ ہیں اگرالگ الگ ہیں تودونوں کی شرعی حیثیت اورحکم وضح کردیں؟

جواب

1۔"کونوامع الصادقین" کی تفسیرمیں  مفسرین نےجوصحبت صالح کاقول ذکرکیاہے،اس قول کےاعتبارسےیہ حکم وجوبی نہیں بلکہ استحبابی ہے۔

2۔اصلاح نفس کے لیے کسی پیر کی صحبت اختیار کرنا لازمی اور ضروری نہیں ہے، البتہ موجودہ دور میں تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ جو درجہ عمل اور اصلاح کا مطلوب ہے، وہ  کسی کامل بزرگ کے  اتباع و تربیت کے بغیراطمینان کے ساتھ  عادۃً حاصل نہیں ہوتا، اس لیے اکابرین کسی کامل بزرگ کے ساتھ بیعت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، تاہم  اگر کوئی شخص عمر بھر بھی بطریق متعارف کسی سے بیعت نہ ہو، اور خود علمِ دین حاصل کرکے یا علماء سے تحقیق کرکے اخلاص کے ساتھ احکام پر عمل کرتا رہے تو وہ بھی درست ہے۔ 

3-بیعت اور اصلاح نفس سے مراد تحصیل اخلاص اور نورِ اسلام کاتجلیہ ہے،اور یہ بدونِ مخصوص شیخ  کے بھی حاصل ہوجاتا ہے،خواہ کتابوں سےپڑھ کرہویایا اساتذہ سے سیکھ کر ہو یابزگوں کی صحبت میں رہ کرہو،اگرچہ اکثری طریقہ یہی ہے کہ صحبتِ شیخ میں رہ کر ہی اصلاح ہوجاتی ہے۔

4۔اصلاح نفس کسی مرشدکامل ، متبع سنت  کےہاتھ پرگناہوں  سےتوبہ کرنااورآئندہ اس کی راہ نمائی میں دین پرچلنےکاعہد کرنابیعت کہلاتاہے،اورصحبت صالح  سےمرادکسی مرشدکامل متبع سنت سےاپنےنفس کی اصلاح کرواناخواہ اس کےہاتھ پربیعت کی ہویانہ گویاکہ بیعت خاص ہوئی اورصحبت صالح عام ہوئی ۔بیعت کرنا سنت ہے،البتہ بیعت کے مفید ہونے کےلیے صحبتِ شیخ اختیار کرنا ضروری ہے۔

تفسیر معارف القرآن (مفتی شفیعؒ) میں ہے:

" يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ"، سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا پھر ان کی توبہ قبول ہوئی یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لئے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کیلئے ہدایت فرمائی گئی، اور كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی اس میں منافقین کی صحبت مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہئے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے، اس جگہ قرآن حکیم نے علماء صلحاء کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرما کر عالم و صالح کی پہچان بھی بتلا دی ہے کہ صالح صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو، عمل کا بھی سچا ہو ۔

(سورۃ التوبۃ:آیت119، ج:4،ص:485، ط: ادارۃ معارف القرآن کراچی)

تفسیربیان القرآن میں ہے:

"قوله تعالى "يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ" ، بعض نے معیت کی تفسیر مخالطت و مقارنت سے کی ہے۔ ہے كذا في الروح پس اس میں ترغیب ہے صحبت صالحین کی ."

(سورۃ التوبۃ آیت 119،ج:2،ط:رحمانیۃ)

فتاویٰ رشیدیہ میں ہے:

"مرادبیعت  سے تحصیل اخلاص اور نورِ اسلام کاتجلیہ ہے،اور یہ بدونِ شیخ  کے بھی حاصل ہوجاتا ہے،اگرچہ اکثری طریقہ یہی ہےکہ کسی کے توسل کی ضرورت ہے۔

کتاب الاخلاق والتصوف،بیعت کی حقیقت، ص:197، ط:ادارہ اسلامیات لاہور)

القول الجمیل میں ہے:

"إعلم أن البيعة سنة وليست بواجبة...ولم يدل دليل علي تاثيم تاركها، ولم ينكر أحد من الأئمة  علي أنها ليست بواجبة ."

(الفصل الثاني، ص:18، ط:سعيد)

إعلاء السنن میں ہے:

"ولا يتيسر ذالك إلا بالمجاهدة علي يد شيخ كامل قد جاهد نفسه وخالف هواه وتخلي عن الأخلاق الذميمة ...ومن ظن من نفسه أنه يظفر بذالك بمجرد العلم ودرس الكتب ، فقد ضل ضلالاً بعيداً، فكما أن العلم بالتعلم من العلماء فكذالك الخلق بالتخلق علي يد العرفاء."

(كتاب الأدب والتصوف والإحسان، باب الترهيب عن مساوئ الأخلاق والترغيب في مكارم الأخلاق، ج:18، ص:454، ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية كراتشي)

وفيه أيضاً:

"وبالجملة فالتصوف عبارة عن عمارة الظاهر والباطن ، أما عمارة الظاهر فبالأعمال الصالحة ، وأما عمارة الباطن فبذكر الله وترك الركون إلي ما سواه ... وكان يتيسر ذالك للسلف بمجرد الصحة."

(كتاب الأدب والتصوف والإحسان، ج:18، ص:449، ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية كراتشي)

امداد الاحکام میں ہے:

بیعت سنت ہے، فرض و واجب نہیں: بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مرشد اور اس کے شاگرد (مرید) کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے، مرشد یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا سکھائے گا، اور مرید وعدہ کرتا ہے کہ مرشد جو بتلائے گا اس پر عمل ضرور کرے گا، یہ بیعت فرض و واجب تو نہیں، اس کے بغیر بھی مرشد کی رہنمائی میں اصلاحِ نفس کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے، لیکن بیعت چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہے اور معاہدہ کی وجہ سے فریقین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی قوی رہتا ہے، اس لیے بیعت سے اس مقصد کے حصول میں بہت برکت اور آسانی ہوجاتی ہے۔"

(تصوف کی حقیقت، ج:1، ص:39،47،48، ط : مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال: پیر کامل سے مرید ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ قران و حدیث کی روشنی میں صحیح مسئلہ سے مطلع فرمائیں ۔

جواب:عقائد حسنہ ،اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ کی تحصیل ہر شخص پر واجب ہے ،خواہ اساتذہ سے ہو ،خوا ہ کتابوں سے پڑھ کر یا بزرگان ِدین کی صحبت میں رہ کر ہو،  یا خواہ  بذریعہ مطالعہ ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جو حضرات بحالت ایمان حاضر ہوئے تو برکتِ صحبت سے ان کو یہ چیز حاصل ہو گئی،  ان کے باطن میں ایک نور پیدا ہو گیا جس کے ذریعے سے وہ حضرات حق باطل صحیح غلط میں بے تکلف فرق کر لیتے تھے, اتنا تقوی قلب میں پیدا ہو جاتا تھا کہ عمومی حالات میں بھی نفس و شیطان پر قابو رکھتے تھے۔۔۔۔ پھر بعدِ زمانہ اور تغیرِ ماحول کی بنا ءپر اس مقصد کی تحصیل کے لیے مجاہدہ و ریاضت کی ضرورت پیش آئی،  جن حضرات نے اس نسبت کو حاصل کیا اب بھی ان کی صحبت سے بہت نفع پہنچتا ہے، اور اب اس دور میں عمومی استعداد اتنی ضعیف ہو چکی ہے کہ بغیر پیر کا مل سے رابطہ کیے اور بغیر ان کی ہدایت پر عمل کیے اخلاق رذیلہ زائل نہیں ہوتے، اور اخلاق فاضلہ حاصل نہیں ہوتے، تا ہم آج بھی کوئی سلیم الفطرۃ( جو لاکھوں میں سے ایک ہوگا) اپنے عقائد ،اخلاق ،اعمال ،کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق خود ہی بنا لے تو اس کو بیعت ہونے کی ضرورت نہیں ۔"

(کتاب السلوک والاِحسان، بیعت کا بیان ، ج:4، ص:415، ط:اِدارۃ الفاروق)

فقط واللہ اِعلم


فتویٰ نمبر : 144704101918

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں