
ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں بیوہ اور بہن بھائیوں کی اولاد ہیں، یعنی آٹھ بھتیجے، چار بھتیجیاں، دو بھانجے اور تین بھانجیاں ہیں۔والدین اور بہن بھائیوں کا انتقال پہلے ہوگیا ہے۔
مذکورہ ورثاء میں وراثت کی شرعی تقسیم کیا ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی کفن دفن کاخرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے بطور قرض ادا کیا ہو، کو ) نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو، تو اسے ترکہ سے اداکرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسے ایک تہائی ترکہ میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ ترکہ کو 32 حصوں میں تقسیم کرکے 8 حصے مرحوم کی بیوہ کو اور 3، 3 حصے مرحوم کے ہر ایک بھتیجے کو ملیں گے۔بھتیجیاں اور بھانجے بھانجیاں مذکورہ صورت میں میراث کی حق دار نہیں ہوں گی۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت(شوہر):مسئلہ:32/4
| بیوہ | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا | بھتیجا |
| 1 | 3 | |||||||
| 8 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 | 3 |
یعنی مرحوم کے کل ترکہ کا 25 فیصد مرحوم کی بیوہ کو ، اور 9.375 فیصد مرحوم کے ہر ایک بھتیجے کو ملے گا۔
قرآن کریم میں ہے:
"{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ}"
(سورة النساء، الآیة:12)
ترجمہ:”اور ان بیبیوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ اگر تمہاری کچھ اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔“(از بیان القرآن)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط."
(کتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:451، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"وذوو الأرحام كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة وهم كالعصبات من انفرد منهم أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار وذوو الأرحام أربعة أصناف: صنف ينتمي إلى الميت وهم أولاد البنات وأولاد بنات الابن، وصنف ينتمي إليهم الميت وهم الأجداد الفاسدون والجدات الفاسدات، وصنف ينتمي إلى أبوي الميت كبنات الإخوة لأب وأم أو لأب وأولاد الإخوة لأم وأولاد الأخوات كلها، وصنف ينتمي إلى جدي الميت كالأعمام لأم وأولادهم والعمات وأولادهن والأخوال والخالات وأولادهم وبنات الأعمام لأب وأم أو لأب - فهؤلاء وكل من يدلي بهم ذوو الأرحام."
(کتاب الفرائض، الباب العاشر في ذوي الأرحام، ج:6، ص:458، ط:دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."
(کتاب الفرائض، 6 /758، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100107
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن