بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

بطور قرض لی گئی شے کی ادائیگی اس کے مثل سے ہی ہوگی


سوال

میں نے دوسرا نکاح  کر لیا تھا، مہر میں دو تولے سونا اور 50 ہزار نقد مقرر ہوا تھا،  سونا تو میں نے نکاح کے وقت  ادا کیاتھا،  لیکن 50 ہزار روپے ادا نہیں کیے، بعد میں چونکہ میری والدہ بیمار تھیں، ان کے علاج کے لیے وہ سونا میں نے دوبارہ  اپنی بیوی سے لے لیا اور اس کو بیچ کر والدہ کا علاج کرایا، پھر والدہ فوت ہو گئی۔

اب میں اپنی بیوی کو وہ سونا اور 50 ہزار نقد دینا چاہ رہا ہوں،  لیکن عقد کے  وقت جو دو تولہ سونا ہم نے مقرر کیا تھا ، اس کی کوالٹی کے بارے میں یہ تعین نہیں کیا تھا کہ وہ سونا کس کیرٹ  کا ہوگا ، صرف یہ معاہدہ ہوا تھا کہ بصورت زیورات وہ سونا ادا کیا جائے گا، البتہ  نکاح سے پہلے جو سونا میں نے ادا کیا تھا،  وہ 12 کیرٹ کا تھا،  جس کو میری بیوی نے رضامندی سے قبول کر لیا تھا،  اب چونکہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہ رہا ہوں ، اس لیے ہمارے درمیان اختلاف ہے،  میں 12 کیرٹ کا سونا ادا کرنا چاہتا ہوں،  جبکہ میری بیوی اور اس کے خاندان والے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں 22 کیرٹ  کا سونا دے دو  یا پھر  22 کیرٹ سونے کی قیمت کے برابر کیش ادا کر دو ، اب میرے پاس 22 کیرٹ کا نہ سونا ہے اور نہ ہی اس کا کیش موجود ہے ، صرف 12 کیرٹ کا سونا موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے میرے اوپر کون سے کیرٹ کا سونا ادا کرنا لازم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب مطلق دو تولہ سونا بولا جاتا ہے، تو اس سے 24  کیرٹ کا سونا مراد ہوتا ہے اور اگر زیورات کی صورت میں دینے کا ذکر ہو ، تو پھر 21 یا 22 کیرٹ کا سونا مراد ہوتا ہے، کیوں کہ زیورات خالص سونے سے نہیں بن سکتے، اس لیے اس میں تھوڑی بہت ملاوٹ کرنی پڑتی ہے، لہذا صورت مسئولہ  میں سائل نے اگر پہلی بار 12 کیرٹ میں سونا ادا کیا تھا اور اس سے متعلق بیوی کو آگاہ بھی کیا تھا، کہ یہ سونا 12 کیرٹ کا ہے، پھر  سائل کی بیوی نے اس پر رضامندی ظاہر کر لی تھی،  تو اس سے طے شدہ مہر  میں موجود سونا ذمہ سے ساقط ہو گیا تھا،لیکن اگر سائل نے بیوی کو یہ اطلاع دئے(کہ سونا 12 کیرٹ کا ہے) بغیر مذکورہ سونا ادا کیا تھا، تو یہ دھوکہ دہی اور تطفیف(ناپ تول میں کمی کرنے) کے زمرے آتا ہے، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ وہ 24 کیرٹ (اگر زیورات کے بجائےمطلق سونا طے  تھا) یا 21 یا 22کیرٹ(اگر زیورات کی صورت میں ادا کرنا طے تھا، جیسا کہ سوال میں یہی  مذکور ہے) پورا ادا کرے، 12 کیرٹ کا سونا ادا کرنے کی صورت میں سائل کے ذمے سے بیوی کا مہر ساقط نہیں ہوا، اس لیے سائل کی بیوی کو سائل سے مطلوبہ معیار کے سونے کا بطور مہر مطالبہ کرنا درست ہے،   البتہ  والدہ کے علاج کے لیے چونکہ 12 کیرٹ والا سونا  سائل نے اپنی بیوی سے لیا تھا، تو شرعا وہ سونا سائل کے ذمہ قرض ہے، اور قرض کی ادائیگی کا ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز بطور قرض لی تھی، اسی کا مثل ادا کیا جائے گا، پس  مسئولہ  صورت میں سائل نے اپنی بیوی سے چو ں کہ 12 کیرٹ کا سوناقرض لیا تھا، لہذا 12 کیرٹ کا سونا ہی اس کے ذمہ واجب الأداء ہوگا، اس لئے سائل کی بیوی اور اس کے خاندان والوں کی جانب سےقرض کی مد میں  22 کیرٹ کے سونے یا اس کی موجودہ  قیمت کے برابر نقدی کا مطالبہ کرنا شرعا معتبر نہیں   ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے :

"وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (1) الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (3)(سورۃ المطففین)"

ترجمہ :”بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی(1) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کر لیتے ہیں، تو پوری پوری لیتے ہیں(2)اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں، تو گھٹا کر دتے ہیں(3)“(آسان ترجمہ قرآن)۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن ابن عمر وأبي هريرة رضي الله عنهم عن النبي ﷺ قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا» . رواه البخاري وزاد مسلم: «ومن غشنا فليس منا»."

(کتاب القصاص، باب ما یضمن من الجنایات، الفصل الأول، ص :305، ط :قدیمي)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"أقول: إنه خرج باشتراط الحرية على أن المطلق ينصرف للكامل."

(كتاب الزكاة، ج :2، ص :260ِ، ط :سعید)

و فیہ ایضاً :

"(وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب)  حكما (فلا يصح بيع الخالص به، ولا بيع بعضه ببعض إلا متساويا وزنا و) كذا (لا يصح الاستقراض بها إلا وزنا) كما مر في بابه (والغالب) عليه (الغش منهما في حكم عروض) اعتبارا للغالب (فصح بيعه بالخالص إن كان الخالص أكثر) من المغشوش ليكون قدره بمثله والزائد بالغش كما مر (وبجنسه متفاضلا) وزنا وعددا بصرف الجنس لخلافه (بشرط التقابض) قبل الافتراق (في المجلس) في الصورتين ... (و) صح (المبايعة والاستقراض بما يروج منه) عملا بالعرف فيما لا نص فيه، فإن راج (وزنا) فيه (أو عددا) فيه (أو بهما) فبكل منهما (والمتساوي) غشه وفضته وذهبه (كالغالب الفضة) والذهب (في تبايع واستقراض) فلم يجز إلا بالوزن."

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج :5، ص :267، ط :سعید)

و فیہ ایضاً :

"(وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز ويجبر الدائن على قبول الأجود."

(کتاب البیوع، فصل في القرض، ج :5، ص :165، ط :سعید)

و فیہ ایضاً :

"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها

قلت: والجواب الواضح أن يقال قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها أي إذا دفع الدين إلى دائنه ثبت للمديون بذمة دائنه مثل ما للدائن بذمة المديون فيلتقيان قصاصا لعدم الفائدة في المطالبة، ولذا لو أبرأه الدائن براءة إسقاط يرجع عليه المديون كما مر، وكذا إذا اشترى الدائن شيئا من المديون بمثل دينه التقيا قصاصا أما إذا اشتراه بما في ذمة المديون مع الدين ينبغي أن لا يثبت للمديون بذمة الدائن شيء لأن الثمن هنا معين وهو الدين فلا يمكن أن يجعل شيئا غيره فتبرأ ذمة المديون ضرورة بمنزلة ما لو أبرأه من الدين وبه يظهر الفرق بين قبض الدين وبين الشراء به فتدبر."

(کتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، ج :3، ص :789، ط :سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں