بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بطورِ مضاربت لگائی گئی رقم کے نقصان کی صورت میں وکیل سے مطالبے کا حکم


سوال

ایک شخص ایک کمپنی میں سیلز کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ اس نے یہ پیش کش کی کہ وہ کمپنی سے مال نقد (کیش) پر خریدے گا اور آگے ادھار پر فروخت کرے گا، اور اس کام کے لیے مجھ سے سرمایہ لے گا۔ طے یہ پایا کہ حاصل ہونے والا نفع ہم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، یعنی معاملہ مضاربت کا ہوگا۔ میں اس پر راضی ہو گیا اور اسے رقم دینا شروع کر دی۔ ایک مدت تک نفع آتا رہا اور باقاعدہ تقسیم ہوتا رہا۔ بعد میں اس دوست نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ اگر میں مزید لوگوں کو اس کام میں شامل کروں تو وہ مجھے ان کی رقم سے حاصل ہونے والے نفع میں سے بھی کچھ فیصد دے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے بعض رشتہ داروں کی رقم بھی اسی طرح اس کے پاس انویسٹ کر دی۔ ابتدا میں جب میں نے اپنے رشتہ داروں کی رقم لگوائی تو مجھے اس پر کوئی اضافی فیصد یا کمیشن نہیں دیا گیا، البتہ بعد میں کچھ عرصے کے بعد اس نے مجھے کچھ فیصد نفع دینا شروع کر دیا۔ رشتہ داروں کو میرے اس معاملے کا علم تھا، اور انہوں نے خود کہا کہ ان کی رقم بھی اسی کام میں لگا دی جائے،  انہیں یہ بات معلوم تھی کہ سارا عملی کام میرا دوست کر رہا ہے، اور ان کی انویسٹ کی ہوئی رقم پر انہیں نفع بھی ملتا رہا۔ پھر اچانک ایک دن اس شخص نے نفع دینا بند کر دیا۔ جب اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ ہماری دی ہوئی رقم سے جوا کھیلتا تھا، اور اب تمام رقم ہار چکا ہے اور مکمل طور پر دیوالیہ ہو گیا ہے۔

اب یہ معلوم کرنا ہے کہ رشتہ داروں کی جو رقم میں نے اس کے پاس انویسٹ کی تھی، کیا وہ رقم مجھ پر ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟جبکہ رشتہ داروں کے ساتھ میری کوئی بات صراحتاً طے نہیں ہوئی تھی کہ میں ان کی رقم کا ضامن ہوں یا نہیں۔

جواب

 
 

صورتِ مسئولہ میں سائل کا دوست چونکہ اسی کمپنی کا ملازم ہے اور کمپنی کی طرف سے اسی ذمہ داری پر مامور ہے کہ وہ ان کا مال آگے فروخت کرے، اس لیے کمپنی کی اجازت کے بغیر اسی کمپنی کا مال خود خرید کر پھر مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ وہ اسی کام کی تنخواہ لیتا ہے، البتہ اگر کمپنی کے مالکان کی اجازت سے وہ کمپنی سے نقد پر مال خرید کر اپنے طور پر آگے فروخت کرے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

سائل کے دوست کے لیے سرمایہ کاروں کی رقم سےجوا کھیلنا حرام تھا، سائل کا دوست تمام سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنے کا شرعا پابند ہے، نفع کے نام پر جو رقم سرمایہ کاروں کو دی تھی، ہر ایک کے سرمایہ سے منہا کرکے بقیہ سرمایہ ادا کرنا مذکورہ دوست پر لازم ہوگا، سائل چوں کہ مزید سرمایہ لانے میں  اپنے دوست کا کمیشن ایجنٹ تھا، اور سائل پر اعتماد کرتے ہوئے ہی اس کے جاننے والوں نے سرمایہ  کاری کی تھی، اور سائل کا مذکورہ دوست باقاعدہ ہر سرمایہ کار کے سرمایہ کا کچھ فیصد کمیشن نفع کے نام پر سائل کو دیتا رہا، لہٰذا وہ اپنے توسط سے سرمایہ لانے والے افراد کے مطالبہ سے بری الذمہ نہیں ہوگا، اور ان کی رقم کی وصولی کےلیے اپنے دوست  سے رابطہ اور کوشش کرے گا، تاہم سائل ان کی رقم اپنی جیب سے ادا کرنے کا پابند نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرطها) أمور سبعة (كون رأس المال من الاثمان) كما مر في الشركة وهو معلوم للعاقدين (وكفت فيه الاشارة) والقول في قدره وصفته للمضارب بيمينه والبينة للمالك. وأما ‌المضاربة بدين فإن على المضارب لم يجز، وإن على ثالث جاز وكره، ولو قال اشتر لي عبدا نسيئة ثم بعه وضارب ثمنه ففعل جاز، كقوله لغاصب أو مستودع أو مستبضع اعمل بما في يدك مضاربة بالنصف جاز. مجتبى (وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر (وكونه مسلما إلى المضارب) ليمكنه التصرف (بخلاف الشركة) لان العمل فيها من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهم معلوما) عند العقد. ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح، حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت".

(كتاب المضاربة، ج:5، ص:647، ط: سعيد)

فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ میں ہے:

"(و) هي (توكيل عند عمله) لأنه يعمل لرب المال بأمره، ولهذا يرجع بما لحقه من العهدة عليه كالوكيل. (و) هي (شركة) في الربح (إن ربح) لتحصله بالمال والعمل. (و) هي (غصب إن خالف) المضارب لوجود التعدي منه على مال غيره".

(كتاب المضاربة، ج:2، ص:537، ط: دار الأرقم بن أبي الأرقم)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں