
میرے بہنوئی نے اپنی زمین بیچی اور اس کے پیسے میری ہمشیرہ کو بطور مہر کے دیے،یہ رقم اس بات کی تصریح کرکے دی تھی کہ یہ رقم میں آپ کو بطور مہر کے دےرہاہوں اور میری بہن کی سوکن بھی اس مجلس میں موجود تھی(مہر عقد کے وقت کتنا مقرر تھا یہ معلوم نہیں)،اس کے کم از کم تین ماہ کے بعد میرے بہنوئی وفات پاگئے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا جو رقم میری ہمشیرہ کو بطور مہر کے ملی ہے،اس میں میراث جاری ہوگی یا نہیں؟نیز اس کی سوکن بھی ہےتو کیا اس رقم میں اس کی سوکن کا بھی حصہ ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائل کے بہنوئی نےسائل کی بہن کو وہ رقم دیتے وقت یہ صراحت کی تھی کہ یہ رقم میں آپ کو بطور مہر کے دےرہاہوں اور سائل کی بہن نے اس کو قبول کرلیاہوتو وہ رقم شرعاً سائل کی بہن کی ملکیت ہے،مرحوم کا ترکہ نہیں؛ لہذا اس رقم میں سائل کی بہن کی سوکن کا حصہ نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وإذا لم يتراضيا) أي بعد العقد (قوله وإلا) بأن تراضيا على شيء فهو الواجب بالوطء أو الموت."
(کتاب النکاح،باب المهر،ج:3،ص: 109،ط:سعيد)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"الزيادة في المهر صحيحة حال قيام النكاح عند علمائنا الثلاثة، كذا في المحيط. فإذا زادها في المهر بعد العقد لزمته الزيادة، كذا في السراج الوهاج. هذا إذا قبلت المرأة الزيادة سواء كانت من جنس المهر أو لا من زوج أو من ولي، كذا في النهر الفائق۔۔۔وإن حطت عن مهرها صح الحط، كذا في الهداية. ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق."
(کتاب النکاح،الباب السابع في المهر،الفصل السابع في الزيادة في المهر والحط عنه فيما يزيد وينقص،ج:1،ص:313،312،ط:دارالفکربیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101016
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن