بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بطور امانت لیا ہوا سامان واپس نہ کرنا


سوال

ایک خاتون کو نکاح کے موقعہ پر بہت سارا سامان، سونا اور دیگر اشیاء کی صورت میں بطور جہیز ان کے بھائی نے دیا تھا، پھر اس خاتون کا اپنے شوہر سے کچھ جھگڑا ہوا تو وہ سامان اس نے اپنے بھائی کے پاس امانت رکھوایا، اب چند سال بعد بھائی اپنی بہن کو وہ سامان واپس دینے سے انکار کررہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بھائی کا اپنی بہن کے ساتھ یہ معاملہ کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرواقعی بھائی نےاپنی بہن کو نکاح کے موقع پر سامان   بطور ملکیت کے دیا تھا تو اس سامان کی مالکہ  مذکورہ بہن بن گئ تھی، اب اس میں کسی اور کو بلا اجازت تصرف کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اس کے بعد بہن نے جب بھائی کے پاس وہ سامان رکھوایا تو اس کی حیثیت بطور امانت کی تھی لہذا بہن  جب چاہے اپنے سامان کا مطالبہ کرسکتی ہے، بھائی ، وہ سامان واپس دینے کا شرعا پابند ہے۔ سامان واپس کرنے سے انکار کرنا  یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا امانت میں خیانت اور دوسرے کا مال ناحق استعمال کرنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں اس پر کئی وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

قرآن کریم میں ہے :

فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه(بقرة: 283)

ترجمہ: "تو جس شخص کا اعتبار کرلیا گیا ہے ا س کو چاہیے کہ دوسرے کا حق ادا کردے اوراللہ سے ڈرے جو کہ اس کا پروردگار ہے۔"(بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «‌لا ‌إيمان ‌لمن ‌لا ‌أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان"

(کتاب الایمان، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 17، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : بہت کم  ایسا ہوتا کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہم سے بیان کرتے اور یہ نہ کہیں  کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق".

(کتاب الودیعة، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ج: 4، ص: 338، ط: رشیدیه)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101505

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں