بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بسنت اور پتنگ بازی


سوال

1. پتنگ بازی کا رجحان ہے آج کل ۔ایسی پتنگ جو گھر یا چھت یا صحن میں گرے اور اس کے مالک کا علم نہ ہو یا گھر تک نہ جا سکتے ہوں (عمومی طور پر چھت سے تو پہچان ہوتی ہے مگر گھر تک نہیں جاسکتے )ایسی پتنگوں کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے؟

2. بسنت کے دن پتنگ اڑانا جائز ہے یا نہیں بسنت کے علاوہ پتنگ اڑانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

1.پتنگ بازی کرتے وقت جو پتنگ کٹ کر کسی کے گھر وغیرہ میں آگرے ،اگر اس کا مالک آکر مطالبہ کرے تو اس کے حوالہ کردی جائے ، اگر نہ آئے تو گویا اس نے دوسروں کے لیے مباح کردیا ہے۔ اس صورت میں واپس کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

2. تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے بسنت ہندؤوں کا تہوار   ہے،اور مسلمانوں کو کافروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے، لہذا پتنگ اڑا کر اس تہوار کا حصہ بننا مسلمان کے لیے مکروہ ہے۔پھر اس پتنگ بازی (پتنگ کے مقابلہ ) میں دیگر اور بہت سارے مفاسد ہیں، مثلا اس فعل کا کبوتر بازی کے مشابہ ہونا، دوسرے مسلمان کی پتنگ کاٹ کر اس کو مال نقصان پہنچانا وغیرہ۔

بسنت کے علاوہ مقابلہ کے بغیر صرف وقت گزاری اور تفریح کی خاطر   پتنگ اڑانے کا حکم باقی لہو لعب کی چیزوں کی طرح ہے یعنی جس طرح باقی لہو لعب کے کھیلوں ( جس میں ذہنی اور جسمانی کسی قسم کی کوئی ورزش نہیں ہے)میں اپنے آپ کو مشغول کرنا ناپسندیدہ ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في الهداية فإن كانت شيئا يعلم أن صاحبها لا يطلبها كالنواة وقشر ‌الرمان يكون إلقاؤه إباحة، حتى جاز الانتفاع به بلا تعريف ولكنه يبقى على ملك مالكه؛ لأن التمليك من المجهول لا يصح. وفي شرح السير الكبير: لو وجد مثل السوط والحبل فهو بمنزلة اللقطة، وما جاء في الترخيص في السوط فذاك في المنكسر ونحوه مما لا قيمة له ولا يطلبه صاحبه بعدما سقط منه وربما ألقاه مثل النوى وقشور ‌الرمان وبعر الإبل وجلد الشاة الميتة. أما ما يعلم أن صاحبه يطلبه فهو بمنزلة اللقطة، والدابة العجفاء التي يعلم أن صاحبها تركها إذا أخذها إنسان فعليه ردها استحسانا؛ لأن صاحبها إنما تركها عجزا فلا يزول ملكه عنها بذلك، والسوط إنما ألقاه رغبة عنه لقدرته على حمله."

(کتاب اللقطہ، ج:4،ص:278،ایچ ایم سعید)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"4840 - وعن علي بن الحسين رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌حسن ‌إسلام ‌المرء تركه ما لا يعنيه» ". رواه مالك، وأحمد."

وحقيقة ما لا يعنيه ما لا يحتاج إليه في ضرورة دينه ودنياه، ولا ينفعه في مرضاة مولاه بأن يكون عيشه بدونه ممكنا، وهو في استقامة حاله بغيره متمكنا، وذلك يشمل الأفعال الزائدة والأقوال الفاضلة، فينبغي للمرء أن يشتغل بالأمور التي يكون بها صلاحه في نفسه في أمر زاده بإصلاح طرفي معاشه ومعاده، وبالسعي في الكمالات العلمية والفضائل العملية التي هي وسيلة إلى نيل السعادات الأبدية، والفوز بالنعم السرمدية، ولعل الحديث مقتبس من قوله تعالى: {والذين هم عن اللغو معرضون} [المؤمنون: 3]."

(کتاب  الآداب، باب حفظ اللسان و الغیبۃ، ج:،ص:،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں