بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بارش کی وجہ سے دونمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کا حکم


سوال

میں سعودی عرب میں رہتا ہوں، اور اس وقت یہاں بارش کا موسم ہے، تو یہاں مساجد میں اکثر دو نمازیں ایک ہی وقت میں پڑھائی جاتی ہیں، جیسے ظہر اور عصر کی نماز، یا مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھاتے ہیں۔ تو کیا ہمیں بھی ان کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات مقرر کردیے ہیں  اور نمازوں کو ان کے اوقات ہی میں پڑھنے کی قرآن وحدیث میں تاکید آئی ہے اور دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے،البتہ حج کے موقع پر عرفہ میں ظہر و عصر کو جمع کرنے اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے،لیکن یہ حج کے ساتھ خاص ہے، اور اس کو لاکھوں آدمیوں نے نقل کیا ہے، ا س کے علاوہ  کسی بھی عذر مثلاً سفر یا بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا قرآن کے خلاف ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے،باقی جو بعض روایات میں جمع بین الصلاتین کا ذکر آیا ہے تو اس سے جمع صوری مراد ہے یعنی ہر نماز کو اپنے وقت ہی میں پڑھا  جائے ،البتہ پہلی نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے ابتدائی  وقت میں پڑھا  جائے ،جمع حقیقی یعنی دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا حج کے علاوہ کسی موقع پر جائز نہیں ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  حنفی شخص کے لیے بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں ادا کرنا اس طور پر کہ دوسری نماز کا وقت ابھی داخل نہ ہوا ہو ، جائز نہیں ہے ۔ البتہ اگر تیز بارش ہو اور اس کی وجہ سے نمازیوں کا  بار بار جمع ہونا مشکل ہو تو ایک نماز  کو آخری وقت میں اور دوسری کو  اول وقت میں پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا" (النساء:103)

ترجمہ: "یقیناً نماز مسلمانوں پر فرض ہےاور وقت کے ساتھ محدود ہے۔" ( بیان القرآن )

سنن ترمذی  میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌جمع ‌بين الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر»."

(أبواب الصلاة، باب ما جاء في الجمع بين الصلاتين،ج: 1،ص:145،ط: رحمانية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواهمحمول على الجمع فعلا لا وقتا (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة) كما سيجيء.

(قوله: وما رواه) أي من الأحاديث الدالة على التأخير كحديث أنس «أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا عجل السير يؤخر الظهر إلى وقت العصر فيجمع بينهما، ويؤخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء» وعن ابن مسعود مثله.ومن الأحاديث الدالة على التقديم وليس فيها صريح سوى حديث أبي الطفيل عن معاذ «أنه عليه الصلاة والسلام كان في غزوة تبوك إذا ارتحل قبل زيغ الشمس آخر الظهر إلى العصر فيصليهما جميعا، وإذا ارتحل قبل زيغ الشمس صلى الظهر والعصر ثم سار، وكان إذا ارتحل قبل المغرب أخر المغرب حتى يصليها مع العشاء، وإذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاها مع المغرب» .(قوله: محمول إلخ) أي ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا: أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها، ويحمل تصريح الراوي بخروج وقت الأولى على التجوز كقوله تعالى - {فإذا بلغن أجلهن} [البقرة: 234]- أي قاربن بلوغ الأجل أو على أنه ظن، ويدل على هذا التأويل ما صح «عن ابن عمر أنه نزل في آخر الشفق فصلى المغرب ثم أقام العشاء وقد توارى الشفق، ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا عجل به السير صنع هكذا» " وفي رواية " ثم انتظر حتى غاب الشفق وصلى العشاء " كيف وقد قال صلى الله عليه وسلم «ليس في النوم تفريط، إنما التفريط في اليقظة، بأن تؤخر صلاة إلى وقت الأخرى» رواه مسلم، وهذا قاله وهو في السفر وروى مسلم أيضا عن ابن عباس «أنه صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر، لئلا تحرج أمته» وفي رواية «ولا سفر» والشافعي لا يرى الجمع بلا عذر، فما كان جوابه عن هذا الحديث فهو جوابنا. وأما حديث أبي الطفيل الدال على التقديم فقال الترمذي فيه إنه غريب، وقال الحاكم إنه موضوع، وقال أبو داود: ليس في تقديم الوقت حديث قائم، وقد أنكرت عائشة على من يقول بالجمع في وقت واحد. وفي الصحيحين «عن ابن مسعود والذي لا إله غيره ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة قط إلا لوقتها إلا صلاتين جمع بين الظهر والعصر بعرفة، وبين المغرب والعشاء بجمع» " ويكفي في ذلك النصوص الواردة بتعيين الأوقات من الآيات والأخبار، وتمام ذلك في المطولات كالزيلعي وشرح المنية. وقال سلطان العارفين سيدي محيي الدين نفعنا الله به: والذي أذهب إليه أنه لا يجوز الجمع في غير عرفة ومزدلفة؛ لأن أوقات الصلاة قد ثبتت بلا خلاف، ولا يجوز إخراج صلاة عن وقتها إلا بنص غير محتمل؛ إذ لا ينبغي أن يخرج عن أمر ثابت بأمر محتمل، هذا لا يقول به من شم رائحة العلم، وكل حديث ورد في ذلك فمحتمل أنه يتكلم فيه مع احتمال أنه صحيح، لكنه ليس بنص اهـ كذا نقله عنه سيدي عبد الوهاب الشعراني في كتابه الكبريت الأحمر في بيان علوم الشيخ الأكبر."

 (كتاب الصلاة،ج:1،ص: 382، ط:سعید)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"قال أصحابنا: إنه لا يجوز الجمع بين فرضين في وقت أحدهما إلا بعرفة والمزدلفة فيجمع بين الظهر والعصر في وقت الظهر بعرفة، وبين المغرب والعشاء في وقت العشاء بمزدلفة، اتفق عليه رواة نسك رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه فعله، ولا يجوز الجمع بعذر السفر والمطر."

(فصل شرائط أركان الصلاة،ج:1،ص:126، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144706102166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں