بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1445ھ 25 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بڑی عمر میں عقیقہ کرنا


سوال

 25 سال بعد عقیقہ کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟ کیااتنی مدت کے بعد عقیقہ کرنا  جواز رکھتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بچے کی پیدائش پر شکرانہ کے طور پر جو قربانی کی جاتی ہے اسے ’’عقیقہ‘‘ کہتے ہیں،عقیقہ کرنا سنت نہیں، بلکہ مستحب ہے، عقیقہ کا مستحب وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14)  دن ، ورنہ اکیسویں (۲۱) دن کرے،  اس کے بعد پری زندگی میں کبھی بھی  عقیقہ کرنا مباح ہے،اگر کرلیاجائے تو ادا ہوجاتا ہے،  تاہم جب بھی عقیقہ کرے بہتر یہ ہے کہ پیدائش کے دن  کے حساب سے ساتویں دن کرے۔جس دن پیدائش ہوئی ہواس سے ایک دن پہلے والادن ساتوان دن بنتا ہے۔

إعلاء السنن میں ہے:

"أنها إن لم تذبح في السابع،  ذبحت في الرابع عشر، و إلا ففي الحادي و العشرین، ثم هکذا في الأسابیع."

( باب العقیقة،ج:17،ص:117، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة)

المستدرک  میں ہے: 

’’عن عطاء، عن أم كرز، وأبي كرز، قالا: نذرت امرأة من آل عبد الرحمن بن أبي بكر إن ولدت امرأة عبد الرحمن نحرنا جزوراً، فقالت عائشة رضي الله عنها: «لا بل السنة أفضل عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة تقطع جدولاً، ولايكسر لها عظم فيأكل ويطعم ويتصدق، وليكن ذاك يوم السابع، فإن لم يكن ففي أربعة عشر، فإن لم يكن ففي إحدى وعشرين». هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه." 

 ( المستدرک علی الصحیحین للحاکم(4/ 266) رقم الحدیث: 7595،  کتاب الذبائح، ط: دار الكتب العلمية – بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101585

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں