بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باری تعالیٰ کی صفات ذاتیہ کا بیان


سوال

 صفاتِ باری  تعالیٰ جل جلالہ میں سے صفاتِ ذاتیہ جمالیہ/ثبوتیہ جو بنیادی ہیں(یعنی حیات، سمع ،بصر، کلام، علم، قدرت ،ارادہ) ان کےلیے استعمال ہونے والے سات اسماءِ مبارکہ جو منقول ہوں بمع حوالہ جات کے اگر بتادیں تو نوازش ہوگی، ایک بھائی نے ان سات صفاتی ناموں کو معمول بنانا ہے۔

جواب

شرح العقائد النسفیہ میں باری تعالیٰ کی آٹھ ذاتی صفات بیان کی گئی ہیں،جو درج ذیل ہیں:

1:العلم۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "العلیم "استعمال ہوتا ہے۔

2:القدرۃ۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ"القادر"استعمال ہوتا ہے۔

3:الحیاۃ۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "الحي"استعمال ہوتا ہے۔

4:السمع۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "السمیع"استعمال ہوتا ہے۔

5:البصر۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "البصیر"استعمال ہوتا ہے۔

6:الارادۃ۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "المرید"استعمال ہوتا ہے۔

7:التکوین۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "الخالق"استعمال ہوتا ہے۔

8:الکلام۔اس کے  لیےباری تعالیٰ کی صفات میں لفظ "المتکلم"استعمال ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ علامہ شبلی نعمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صفات باری تعالیٰ کو متعدد انواع (جمالیہ،جلالیہ،وحدانیہ ،وجودی اور تنزیہی وغیرہ )میں تقسیم کرکے ہر ایک قسم کے تحت متعدد صفات بیان کی ہیں۔(ج3،ص306،ط:ادارہ اسلامیات)

شرح العقائد النسفیہ میں ہے:

"فثبت ان لله صفات ثمانية،هي: العلم والقدرة والحياة،والسمع والبصر والارادة والتكوين والكلام.....الخ."

(ص125،ط:مکتبۃ البشریٰ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102137

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں