
ہم ملتان میں رہتے ہیں، وہاں محلے میں سب بریلوی حضرات رہتے ہیں۔ کیا ان کے پیچھے جماعت کر سکتے ہیں ، جبکہ وہاں دوسری مسجد بھی نہیں ہے کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ یہ سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر سمجھتے ہیں، یا گھر میں انفرادی نماز پڑھیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے محلے کا امام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالٰی کی طرح حاضر و ناظر اور عالم الغیب و مختار کل ہیں، تو جان بوجھ کر اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا، اور اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالٰی کی طرح حاضر و ناظر اور عالم الغیب و مختار کل ہونے کا عقیدہ نہ رکھتا ہو، تو اس کے پیچھے نماز پڑھے، انفرادی طور پر نماز نہ پڑھے۔
البتہ سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں سے بات کرکے اپنے لیے الگ مسجد بنانے کی کوشش کرے ، تاکہ اس میں صحیح عقیدے والے امام کی اقتداء میں نماز پڑھ سکے۔
البحر الرائق میں ہے:
"فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيه،فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد وينبغي أن يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى."
وتحته في منحة الخالق:
"(قوله فالحاصل أنه يكره إلخ) قال الرملي ذكر الحلبي في شرح منية المصلي أن كراهة تقديم الفاسق والمبتدع كراهة التحريم، وأما العبد والأعرابي وولد الزنا والأعمى فالكراهة فيهم دون الكراهة فيهما ولا يخفى أن ما هنا أوجه لما تقدم من الدليل تأمل."
(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج: 1، ص: 370، ط: دار الکتاب الإسلامي)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144712101223
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن