بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بڑے پلازہ میں غیر متعین دکان فروخت کرنے کا حکم


سوال

آج کل ہر جگہ بڑے بڑے پلازے اور ٹاورز کی تعمیرات جاری ہیں،  اس میں اکثر پہلی منزل کمرشل دکانوں کے  لیے ہوتی ہیں تو اس میں جگہ سکوائر فٹ کے حساب سے دی جاتی ہے،    آپ کو ایک ہال یا دکان کا تعین کیا جاتا ہے کہ اس میں آپ کا مثلاً: 50 سکوائر فٹ جگہ ہے،  لیکن اس جگہ کی حدود اربعہ معلوم نہیں ہوتی  کہ اس دکان میں کون سی جانب میری ہے،  پھر اس کے بعد اس 50 سکوائر فٹ کا کرایہ متعین کیا جاتا ہے کہ آپ کو آپ کے حصے کا ہر ماہ 35 ہزار روپے کرایہ ملے گا،  اور یہ معاملہ عام ہے،  ہر کوئی آپس کی رضامندی سے یہ معاملہ طے کر کے ہر ماہ کرایہ وصول کرتا ہے،  کیا اس طرح کا معاملہ کرنا درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر پلازہ اور ٹاورز کا اسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچہ ہی نہ بنا ہو، بلکہ وہ صرف نقشے کی حد تک ہو تو اس صورت میں نہ ہی خرید و فروخت کا معاملہ کرنا جائز ہے اور نہ ہی کرایہ داری کا،  اور اگر اسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچا تو بن چکا ہو، لیکن اس طور پر ہوکہ کرایہ پر لینے والا اس سے نفع نہیں اٹھا سکتا، تو اس صورت میں حد بندی (یعنی کہ فلاں سمت اتنی اسکوائر فٹ )، یا نمبر وغیرہ کے ذریعے( کہ فلاں نمبر کی دکان) تعیین کرنے کے بعد خرید و فروخت کا معاملہ تو  کیا جاسکتا ہے، البتہ کرایہ داری کا معاملہ نہیں کیا جاسکتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر  اسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچا  تیار نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں خرید و فروخت اور کرایہ داری کا معاملہ کرنا جائز نہیں ہوگا، اور اگر   اسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچا تیار ہوچکا ہو تب بھی اس کی خرید و فروخت اور کرایہ داری کا معاملہ کرنا جائز نہیں ، کیوں کہ اس صورت میں جگہ  حدود اربعہ کے لحاظ  سے متعین نہیں ہوتی ، بلکہ مجہول ہوتی ہے، اور خرید و فروخت اور کرایہ داری کے لیےجگہ   کا متعین ہونااور قابلِ انتفاع ہونا ضروری ہے۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"‌وبيع ‌الثمار ‌قبل ‌الظهور لا يجوز بالإجماع."

(كتاب البيوع، ج: 8، ص: 37، ط: دار الكتب العلمية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم الخ."

(كتاب البيوع، فصل في الشرائط الذي ير جع الي المعقود عليه، ج: 5، ص: 138، ط: سعید)

مجلة الأحكام العدلیہ میں ہے:

"(المادة 200) : يلزم ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما عند المشتري.

(المادة 201) يصير المبيع معلوما ببيان أحواله وصفاته التي تميزه عن غيره مثلا لو باعه كذا مدا من الحنطة الحمراء أو باعه أرضا مع بيان حدودها صار المبيع معلوما وصح البيع."

(الکتاب الأول فی البیوع، الباب الثاني: في بيان المسائل المتعلقة بالمبيع، الفصل الأول: في حق شروط المبيع وأوصافه، ص: 41، ط: نور محمد)

فتاوی شامی میں ہے:

"ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي."

(کتاب البیوع، ج: 4، ص: 454، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).

وفي الرد: (قوله تمليك) جنس يشمل بيع العين والمنفعة."

(كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 4، ط: سعید)

مجمع الأنہر میں ہے:

"(هي) أي الإجارة (بيع منفعة) احتراز عن بيع عين (معلومة) جنسًا وقدرًا (بعوض)".

(كتاب الإجارة، ج: 2، ص: 368، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں